نظام نو — Page 53
سکتا کہ عدالت میں برہمن کے خلاف دعوی دائر کر دے اور اس سے اپناروپیہ وصول کرے بلکہ اس صورت میں معاملہ کو ختم سمجھنا چاہیئے اور شودر کو روپیہ کی وصولی کا خیال اپنے دل سے نکال دینا چاہئے۔لیکن اگر شودر کسی برہمن سے قرض لے بیٹھتا ہے اور پھر ادا ئیگی کی طاقت نہیں رکھتا تو منو کے احکام کے مطابق اس کا فرض ہے کہ وہ اونچی ذات والوں کی نوکری کرے اور اسطرح قرض کو ادا کرے۔پھر یہیں تک بس نہیں بلکہ اس تعلیم کا اثر اور آگے چلتا ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص مر جائے اور اس کی کئی بیویاں ہوں تو ایسی حالت میں :۔ایک کی اولاد جو براہمنی سے ہے وہ اس کی جائیداد کے تین حصہ لے اور جو کشترانی سے ہے اس کی اولاد دو حصے لے اور جو ویشیا ہے اس کی اولا د ڈیڑھ حصہ لے اور شودرانی کی اولا دایک حصہ لے۔17۔۔اس تعلیم کے ماتحت مرنے والے کی جائیداد میں سے برہمنی کی اولاد کو تین حصے کھترانی کی اولا د کو دو حصے، ولیش کی اولاد کو ڈیڑھ حصہ اور شود رانی کی اولاد کو ایک حصہ ملے گا۔اب بتاؤ اس نظام کے ماتحت وہ ادنیٰ حالت سے اونچے کسطرح ہو سکتے ہیں۔پھر لکھا ہے کہ:۔براہمن شو در سے دولت لے لے۔اس میں کوئی وچار نہ کرے کیونکہ وہ دولت جو اس ✓۔۔نے جمع کی ہے وہ اس کی نہیں بلکہ براہمن کی ہے۔اس تعلیم کے ماتحت براہمنوں کو اور زیادہ آسانی حاصل ہوگئی کیونکہ انہیں اس بات کی اجازتدے دی گئی ہے کہ شودروں کے پاس جب بھی تمہیں دولت نظر آئے فور لوٹ لو اور کوئی و چار یعنی فکر نہ کرو کہ اس لوٹ سے گناہ ہوگا کیونکہ شودر کا مال اس کا نہیں بلکہ تمہارا ہے جب بھی تم کسی شودر کے پاس مال و دولت جمع دیکھو فوراً لوٹ لو اور اپنے قبضہ میں کرلو۔یہ وہ تعلیم ہے جو ہندو مذہب پیش کرتا ہے اور چونکہ ہندو مذہب میں سوائے برہمنوں کھتریوں اور ویشوں کے 53