نظام نو — Page 47
آ جاتا ہے اور جن لوگوں کی دماغی حالت اس قسم کی ہو اُن سے یقیناً زیادہ آرام حاصل ہوتا ہے کیونکہ وہ حکومت کر کے تھک چکے ہوتے ہیں۔دوسرے یہ اقوام مذہب میں دخل اندازی کو پسند نہیں کرتیں اور سوائے کسی اشد سیاسی یا اقتصادی ضرورت کے مذہب کے بارہ میں مخفی دباؤ کو بھی پسند نہیں کرتیں۔اور اگر کوئی خدا ہے اور اس کی طرف سے رسول دنیا میں آتے رہے ہیں اور اگر انکی تعلیمات پر عمل ہماری اُخروی زندگی کو سنوارنے کے لئے ضروری ہے تو پھر با وجود اس کے کہ ان اقوام کا طریق عمل بھی پورا منصفانہ نہیں بلکہ ایک حد تک خودغرضانہ ہے ، ہر مذہب کا دلدادہ شخص ان اقوام کی فتح کو نیشنلسٹ سوشلزم والوں کی فتح پر بہت زیادہ ترجیح دیگا۔انگریزوں کی فتح سے نتیجہ میں بالشوزم کی فتح اور اسکا نتیجہ لیکن یہ بھی یادر ہے کہ موجودہ حالات میں ان اقوام کی فتح کے ساتھ بالشوزم کی فتح بھی ضروری ہے اور بالشوزم مذہب کی نیشنلسٹ سوشلزم والوں سے بھی زیادہ دشمن ہے۔پس یقیناً ان کی فتح سے گو دنیا کو نیشنلسٹ سوشلزم کے خطرہ سے نجات ہوگی مگر ایک نئی رسہ کشی مذہب اور لامذہبیت میں شروع ہو جائیگی۔غرباء کی حالت سدھارنے کے لئے مختلف مذاہب کی تدابیر میں نے اسوقت تک دنیوی تحریکات کا ذکر کیا ہے اب میں اُن تدبیروں کا ذکر کرتا ہوں جو مختلف مذاہب کے پیرو دنیا کے ایک نئے نظام کی تکمیل کے لئے پیش کر رہے ہیں۔ان مذاہب میں سے سب سے بڑے مذہب یہ ہیں۔ہندو، مسیحی ، یہودی اور اسلام۔اس وقت اگر ان تمام مذاہب کے پیروؤں کا جائزہ لیا جائے تو ہر مذہب کا پیرو یہ دعوی کرت سنائی دیگا کہ وہی مذہب سب سے اعلیٰ ہے جس کا وہ پیرو ہے اور اس کی تعلیم دنیا کے دکھ اور درد کو دور کرسکتی ہے۔ہندو کہتے ہیں 47