نظام نو — Page 46
ابھر نیوالی اقوام کا سلوک دوسرے ممالک کے لوگوں سے بھو کے جاٹ والا ہوگا اور برسر اقتدار حکومتوں کا ایک بوڑھے تاجر جیسا۔جو تاجر بہت ساروپیہ کمالیتا ہے کنجوس تو وہ بھی ہوتا ہے اور وہ بھی اپنے مال میں اور زیادتی کا طالب رہتا ہے لیکن وہ اس پر بھی خوش ہوتا ہے کہ موجودہ حالت ہی قائم رہے اور کبھی کبھی اُسکے دل میں یہ خیال بھی آجاتا ہے کہ اب میں نے بہت کمالیا ہے اب میں اپنے کام سے پنشن لے لوں۔پس یہ جو بر سر اقتدار حکومتیں ہیں ان میں اب اتنا جوش نہیں جتنا نئی حکومتوں میں جوش ہو سکتا ہے چنانچہ دیکھ لو کہاں انگلستان ہے اور کہاں انگریز لوگ چین کے کناروں تک حکومت کر رہے ہیں۔اسی طرح امریکہ کا اقتصادی اقتدار تمام دنیا پر چھایا ہوا ہے اور اب انکا پیٹ اتنا بھرا ہوا ہے کہ چلنا پھرنا بھی ان کے لئے مشکل ہو رہا ہے اور جو شخص استقدر سیر ہو وہ ظلم نہیں کرتا یا کم کرتا ہے۔اس کی مثال تم ایسی ہی سمجھ لو کہ جس شخص کا پیٹ بھرا ہوا ہو اس کے سامنے اگر تم پلاؤ بھی رکھو تو وہ دو چار تھے لے کر بس کر دیگا لیکن اگر وہی پلاؤ کی تھالی کسی بھوکے کے سامنے رکھو تو وہ نہ صرف یہ پلاؤ ہی کھا جائیگا بلکہ ممکن ہے کہ تمہارا کھانا بھی کھا جائے۔جرمن اور رومی اور ہسپانوی اس وقت بھوکے ہیں اس لئے اگر اُن کا اقتدار آیا تو وہ کچھ مدت تک خوب بڑھ بڑھ کر ہاتھ ماریں گے اور مال و دولت کو لوٹتے چلے جائینگے جیسے ہندوستان جب انگریزوں کے قبضہ میں آیا تو انہوں نے بھی ہندوستان کی اقتصادی حالت پر خوب قبضہ جمایا تھا۔یہی خواہش جرمن اور رومی لوگوں کی ہوگی۔وہ بھی کہیں گے کہ اب ہم نے ان کانوں پر قبضہ کیا ہے اب ہم بھی یہاں کے تیل اور سونے اور دوسری چیزوں سے فائدہ اٹھا ئیں اور سوڈیڑھ سوسال تک وہ ایسا کرتے چلے جائیں گے مگر انگریزوں کی مثال بوڑھے تاجر کی سی ہے جو بڑھا ہو جاتا ہے، مال بڑھانے کی خواہش تو بیشک اس کی طبیعت میں موجود ہوتی ہے مگر کبھی کبھی اُسے یہ بھی خیال آجاتا ہے کہ دولت بہت کمالی ہے اب پنشن لے لینی چاہئے۔اسی طرح ان قوموں کے دلوں میں بھی کبھی زیادہ طلبی کا خیال آجاتا ہے مگر کبھی یہ خیال بھی آجاتا ہے کہ ہم نے بہت کمالیا اب قناعت کرنی چاہئے۔اسی طرح اگر انہیں کبھی ظلم کا خیال پیدا ہوتا ہے تو کبھی رحم کا خیال بھی 46