نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 48 of 129

نظام نو — Page 48

ہم ایک دن میں اوم کا جھنڈا (نعوذ باللہ ) مکہ معظمہ پر گاڑیں گے، یہودی کہتے ہیں یہودیت کی تعلیم ہی سب سے اعلیٰ ہے، عیسائی کہتے ہیں ہمارے یسوع مسیح نے جو کچھ کہا وہی قابل عمل ہے،اس کے مقابلہ میں مسلمانوں میں بھی جوش ہے اور وہ یہ دعویٰ کرتے اور بجاطور پر کرتے ہیں کہ اسلام ہی تمام دکھوں اور دردوں کا کامیاب علاج پیش کرتا ہے۔بہر حال بڑے مذاہب یہی ہیں۔ہندو، مسیحی ، یہودی اور اسلام۔میں اس وقت نماز روزہ کی طرف نہیں جارہا بلکہ میں یہ مضمون بیان کر رہا ہوں کہ دنیا فاقے سے مر رہی ہے۔دنیا نے اس کے علاج کے لئے بعض تحریکات جاری کی ہیں ان دنیوی تحریکات کے مقابلہ میں مذاہب اس کے متعلق کیا نظریہ پیش کرتے ہیں اور وہ کونسا نیا نظام ہے جو یہ مذاہب دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔اس غرض کے لئے میں سب سے پہلے یہودیت کو لے لیتا ہوں۔یہودیت میں نئے نظام کی شکل اور اسکا نتیجہ یہودیت دنیا کے لئے جو نظام پیش کرتی ہے وہ محض قومی ہے اُس میں کوئی بات عالمگیر نہیں۔مثلاً یہودیت کہتی ہے کہ یعقوب کی اولاد ہی خدا کو پیاری ہے باقی سب اس کی غلامی کے لئے پیدا کئے گئے ہیں۔اگر اس مذہب کی کسی وقت دنیا پر حکومت ہو جائے تو یقیناً اس تعلیم کے ماتحت ظلم بڑھے گا۔گھٹے گا نہیں۔یا مثلاً یہودیت کہتی ہے تو اپنے بھائی سے سود نہ لے اور اُسے چھوڑ کر جس سے چاہے سود لے لے۔اب اگر سود لینابُرا ہے تو وجہ کیا ہے کہ ایک یہودی سے نہ لیا جائے اور غیر یہودی سے لے لیا جائے۔اس کی وجہ بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ یہودیت ایک قومی مذہب ہے۔وہ کہتی ہے کہ اوروں سے بے شک لے لو مگر اپنوں سے نہ لو۔پس اس مذہب کو اگر دنیا پر غلبہ حاصل ہو جائے تو اس کا کام یہ ہوگا کہ وہ اور سب سے ٹیکس وصول کر یگی اور یہودیوں میں اس کو تقسیم کر دیگی۔اسی طرح یہودیت صدقہ و خیرات کا تو حکم دیتی ہے مگر کہتی ہے صدقہ و خیرات صرف اپنے ہی ہم قوموں کیلئے ہو۔اب اگر کوئی یہودی بادشاہ ہو تو اس تعلیم 48