نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 129

نظام نو — Page 11

والوں کو کیا علم ہو سکتا ہے کہ گاؤں میں غرباء پر کیا مشکلات آ رہی ہیں لیکن حکومت ان تمام باتوں کا بآسانی علم رکھ سکتی ہے۔پس انہوں نے فیصلہ کیا کہ یہ کام حکومت کو اپنے ذمہ لینا چاہئے لیکن حکومت میں بادشاہ اور وزراء کے علاوہ دوسرے لوگوں کا بھی دخل ہونا ضروری ہے تا کہ سب کی آواز مرکز میں پہنچ سکے اور مرکز کو ان کے ذریعہ تمام حالات کا علم حاصل ہوتا رہے اس کے مطابق پہلے چھوٹے چھوٹے تغیرات کئے گئے مثلاً کہا گیا کہ بادشاہ کو گھر بیٹھے کیا پتہ ہوسکتا ہے کہ شاہ پور کے زمینداروں کی کیا ضروریات ہیں ہاں شاہ پور کے زمیندار اپنی ضرورتوں کو خوب جانتے ہیں۔یا بادشاہ کو گھر بیٹھے جھنگ کے لوگوں کی مشکلات کا علم نہیں ہوسکتا مگر جھنگ کے لوگ خوب جانتے ہیں کہ انہیں کیا کیا مشکلات درپیش ہیں پس حکومت کے مرکز تک لوگوں کی آواز پہنچانے کا کوئی انتظام ہونا چاہیے۔ڈیماکریسی کے ماتحت پہلا تغیر پس پہلا تغیر ڈیما کریسی کے ماتحت اس رنگ میں ہوا کہ جمہور نے مطالبہ کیا کہ حکومت میں ہمارا بھی حق ہے تا کہ ہم اپنے اپنے علاقوں کی ضروریات بتاسکیں اور اُن کے متعلق حکومت کو مفید مشورہ دے سکیں۔کچھ عرصہ تک یہ طریق رائج رہا اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس طریق عمل سے فائدہ ہوا۔آخر بادشاہ سب کے حالات معلوم نہیں کر سکتا تھا اس طریق کے مطابق لوگوں کے نمائندے آتے ، حالات بتاتے ، حکومت کو مشورہ دیتے اور مطمئن ہو کر واپس چلے جاتے۔ڈیما کریسی کے ذریعہ حقوق کا تحفظ اور اس کے لئے تاجروں اور پیشہ وروں کی جدوجہد ابتداء میں یہ نمائندے زیادہ تر زمیندار طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اس لئے وہ زمینداروں کے حقوق کے متعلق ہی باتیں کیا کرتے تھے۔بڑے بڑے زمیندار آتے اور بڑے بڑے لوگوں سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اپنی قوم کو زیادہ فائدہ پہنچاتے۔اس پر ایک نئی تحریک شروع ہوئی جو 11