نظام نو

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 12 of 129

نظام نو — Page 12

تاجروں اور پیشہ وروں کی تھی اور اس تحریک کے بانیوں نے اپنا کام تاجروں اور حرفہ والوں کے حقوق کی نگہداشت قرار دیا۔چنانچہ اس تحریک کے نتیجہ میں جو لبرل ازم (Liberalism) کہلاتی ہے تاجروں اور پیشہ وروں کو بھی زمینداروں کی طرح حریت حاصل ہوگئی اور حکومت میں ایسے تغیرات پیدا کئے گئے جن کے نتیجہ میں تاجروں کی تکالیف دور ہوگئیں اور پیشہ وروں کو ملک میں اور زیادہ آسانیاں حاصل ہو گئیں۔سوشلزم یہ صورتِ حالات کچھ دیر تک قائم رہنے کے بعد ایک اور طبقہ کی نگا ہیں اپنے حقوق کو حاصل کرنے کے لئے اٹھیں اور اس نے بھی اس غرض کے لئے جدو جہد شروع کر دی۔یہ طبقہ مزدوروں اور ملازم پیشہ لوگوں کا تھا جو کارخانوں اور دفتروں میں کام کرتے تھے۔جب انہوں نے دیکھا کہ زمینداروں کو بھی انکے حق مل گئے ، صناعوں کو بھی انکے حق مل گئے اور تاجروں کو بھی اُنکے حق مل گئے تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے دکھ کو تم محسوس نہیں کرتے اس لئے اب ہم بھی اپنے نمائندےحکومت میں بھیجیں گے چنانچہ کسی جگہ با قاعدہ انتخاب کے ذریعہ اور کسی جگہ لڑ جھگڑ کر مزدوروں کے نمائندے بھی کھڑے ہونے شروع ہو گئے۔آجکل سوشلزم کا بڑا زور ہے اور یہ دراصل اسی تحریک کا نام ہے جس میں مزدوروں کو مالداروں کے مقابلہ میں زیادہ حقوق دلائے جاتے ہیں۔ایسے لوگ عام پبلک کے حقوق کی حفاظت کے لئے گورنمنٹ کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے اور سمجھتے ہیں کہ اسطرح مزدوروں کی حق رہی ہو جائیگی۔انٹرنیشنل سوشلزم پھر اس سے بھی ترقی کر کے لوگوں نے کہا کہ بے شک یہ سب تحریکیں فائدہ مند ہیں مگر آخر ان کا اثر بعض خاص ممالک تک محدود ہے اور یہ کوئی کامل خوشی کی بات نہیں ہو سکتی۔اگر انگلستان 12