نظام خلافت — Page 23
23 اور اٹل ہے۔یہ لشکر جائے گا اور ضرور جائے گا اور کوئی صورت نہیں کہ اس لشکر کو روکا جائے۔صحابہ نے پھر با ادب عرض کیا کہ کم از کم لشکر کی روانگی میں کچھ تاخیر کردی جائے۔حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ بھی ناممکن ہے، مجھے اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اگر ازواج مطہرات کی نعشوں کو کتے مدینہ کی گلیوں میں گھسیٹتے پھریں تب بھی میں اس لشکر کو ہرگز ہرگز نہیں روکوں گا جس کو رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے ہاتھوں سے تیار فرمایا تھا۔یہ شکر ضرور روانہ ہوگا اور فوری طور پر روانہ ہوگا۔صحابہ نے ایک بار پھر کوشش کی اور پورے ادب سے مشورہ عرض کیا کہ اور کچھ ممکن نہیں تو کم از کم نوعمر اور نا تجربہ کار اسامہ کی جگہ کسی اور تجربہ کار شخص کو امیر لشکر مقرر فرما دیا جائے۔اس پر حضرت ابوبکر نے پھر فرمایا کہ ہر گز ممکن نہیں۔جس کو خدا کے رسول نے مقرر فرما دیا ابن ابی قحافہ کی کیا مجال کہ وہ اسے تبدیل کر سکے۔یہ لشکر اسامہ ہی کی قیادت میں جائے گا اور ضرور جائے گا۔چنانچہ دنیا نے دیکھا کہ باوجود انتہائی نامساعد حالات کے خلیلتہ الرسول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس بات کو لفظا لفظائع را کیا جو رسول اللہ ملے کے مبارک ہونٹوں سے نکلی تھی۔کتنا ایمان افروز نظارہ تھا جب حضرت ابوبکر خود اس لشکر کو رخصت کرنے کے لئے مدینہ سے باہر نکلے، اسامہ کو سوار کرایا اور خودساتھ پیدل چلنے لگے۔اسامہ بار بار عرض کرتے کہ اے خدا کے رسول کے خلیفہ! یا تو آپ بھی سوار ہوں یا