نظام خلافت — Page 24
24 مجھے اترنے کی اجازت دیں۔فرمایا نہیں ، نہ یہ ہوگا نہ وہ ہوگا۔نہ میں سوار ہوں گا نہ تم پیدل چلو گے۔پس اس شان سے حضرت اسامہ کالشکر مدینہ سے روانہ ہوا اور بعد کے حالات نے ثابت کر دیا کہ خلیفہ وقت کا یہ فیصلہ بہت ہی مبارک اور اسلام کی سربلندی کا موجب ہوا۔اس جرات مندانہ اقدام سے دشمن اتنے مرعوب ہوئے کہ مدینہ پر حملہ کی جرأت نہ کر سکے اور یہ لشکر فتح و نصرت کے ساتھ بائیلِ مرام مدینہ واپس آیا۔خلافت راشدہ کے آغاز ہی میں اس پر شوکت واقعہ نے عظمت خلافت کو قائم کردیا اور ہر شخص پر واضح ہو گیا کہ اسلام کی تمکنت اور دین حق کا غلبہ واستحکام خلافت سے وابستہ ہے۔خلافت راشدہ کے اس پر شوکت دور کے بعد مسلمانوں کی ناشکری کے سبب خلافت کا انعام اپنی پہلی شکل میں قائم نہ رہا۔خلافت کی جگہ ملوکیت اور بادشاہت نے راہ پالی اور اس کے ساتھ ہی ان تمام برکات کی بھی صف لپیٹ دی گئی جو خلافت سے وابستہ ہوتی ہیں۔اکناف عالم میں اسلام کو جوترقی اور غلبہ خلافت کے ذریعہ نصیب ہوا تھا اس دور استبداد و ملوکیت میں اس کا سایہ بیچنے لگا۔مسلمانوں کی عظمت نے ان کو خیر باد کہا۔ان کی شان و شوکت ان سے منہ موڑ کر رخصت ہوگئی۔مسلمانوں کی صفوں میں تفرقہ اور اختلاف اس حد تک بڑھ گیا کہ اتحاد و یگانگت کو یکسر بھلا کر باہم برسر پیکار ہو گئے اور نتیجہ یہ ہوا کہ وہ قوم جس نے نبوت کے آفتاب اور خلافت کے ماہتاب سے منور ہوکر ترقی و عروج کی چوٹیوں کو پامال کیا تھا اب تنزل و انحطاط کے قعر مذلت میں جا پڑی۔اس دور کا ایک ایک دن اور ایک ایک رات اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ