نظام خلافت — Page 22
22 لَهُمُ کہ میں اس خلافت کے ذریعہ اپنے اس پسندیدہ دینِ اسلام کو تمکنت ،عظمت اور سر بلندی عطا کروں گا۔اس سچے وعدوں والے خدا نے وقت کے خلیفہ سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو وہ عزم، حوصلہ اور اقدام کی وہ آہنی قوت عطا فرمائی کہ دیکھتے ہی دیکھتے سب فتنے زیر نگیں ہو گئے اور خرمن اسلام ان بگولوں کی زد سے پوری طرح محفوظ و مامون رہا۔صرف ایک واقعہ کا معین ذکر کرتا ہوں۔رسول مقبول ﷺ نے اپنے وصال سے قبل حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں مسلمانوں کا ایک لشکر جرار شام کی طرف بھیجنے کا ارشادفرمایا۔لشکر ابھی روانہ بھی نہ ہوا تھا کہ آپ ﷺ کا وصال ہو گیا۔حالات میں یکدفعہ تغیر پیدا ہو گیا۔بدلے ہوئے حالات میں بظاہر لشکر کو روک لینا ہر لحاظ سے قرین مصلحت نظر آتا تھا۔حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جن کی سیاست دانی اور جرات کا لوہا ایک دنیا مانتی ہے دربار خلافت میں حاضر ہو کر عرض کرتے ہیں کہ اے خلیفہ الرسول ! حالات کا تقاضا ہے کہ اس لشکر کو روک لیا جائے۔خلافت حقہ کی برکت اور عظمت کا اندازہ لگائیے کہ وہ جسے رقیق القلب سمجھ کر کمزور خیال کیا جاتا تھا ، ہاں وہی ابوبکر جسے اب خدا تعالیٰ نے خلافت کا منصب عطا فر ما دیا تھا آپ کا جواب یہ تھا کہ اس لشکر کوروکنے کا کیا سوال، خدا کی قسم ! اگر پرندے میرے گوشت کو نوچ نوچ کر کھانا شروع کر دیں تو تب بھی میں اپنی خلافت کا آغاز کسی ایسی بات کو روکنے سے نہیں کروں گا جس کا حکم رسول اللہ ﷺ اپنی زندگی میں دے چکے ہیں۔جو بات خدا کا رسول کہہ چکا ہے وہ آخری