نظام خلافت — Page 92
92 سے حکم ملا ہے۔جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اس وقت تک سب خطبات رائیگاں، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں۔خطبه جمعه ۲۴ جنوری ۱۹۳۶ء مندرجہ روز نامه الفضل قادیان ۳۱ جنوری ۱۹۳۶ء) ہر احمدی کو اس بارہ میں ہمیشہ اپنا محاسبہ کرتے رہنا چاہئے۔نہایت ادب کے ساتھ بطور یاد دہانی میں چند امور احباب کے سامنے رکھتا ہوں۔حضرت امیر المؤمنین خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے خطبات جمعہ اور خطابات میں قیام نماز، دعاؤں اور عبادتوں کے معیار کو بلند سے بلند تر کرنے اور متعددتربیتی امور کی طرف بار بار توجہ دلائی ہے۔یہ سب باتیں ہماری روحانی بقاء اور ترقی کے لئے اساسی حیثیت رکھتی ہیں۔ہر بچے مخلص احمدی کا فرض ہے کہ دیکھے اور بچے دل سے اپنا محاسبہ کرے کہ کیا وہ دیانتداری سے ان میدانوں میں سرگرم عمل ہے یا نہیں۔خلافت کی محبت کوئی رسمی بات نہیں۔یہ جذ بہ سچا ہے تو اس کا ثبوت نظر آنا چاہئے اور ہدایات پر عمل کرتے ہوئے نیک تبدیلی پیدا کرنا ہی اس کا حقیقی ثبوت ہے۔پھر حضور نے بار بار تبلیغ کی طرف توجہ دلائی ہے۔ہر احمدی کی ذمہ داری ہے کہ وہ خلیفہ وقت کے مبارک لبوں سے نکلی ہوئی ہر آواز پر لبیک کہے اور عملاً وہ بات کر کے دکھا دے۔آج تبلیغ کے بہت وسیع میدان احمدی داعیان الی اللہ کے منتظر ہیں کہ وہ اپنے