نظام خلافت — Page 104
104 علیہ السلام نے فرمایا کہ اب آپ بھیرے کا خیال بھی دل سے نکال دیں تو وفا اور اطاعت کے پتلے نے پھر عمر بھر وطن کا سوچا بھی نہیں۔اطاعت ہو تو ایسی۔یہی وہ خوش نصیب وجود ہے جس کے بارہ میں مسیح پاک علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ نورالدین تو میری اس طرح اطاعت کرتا ہے جس طرح نبض دل کی حرکت کی پیروی کرتی ہے۔حضرت حافظ روشن علی صاحب کی مثال بھی کیا عجیب مثال ہے۔ابتدائی زمانہ میں اس درویش بزرگ کے پاس کپڑوں کا صرف ایک جوڑا ہوا کرتا تھا۔جمعرات کی رات کو دھو لیتے اور جمعہ کی صبح پہن لیتے۔ایک بار ایسے ہوا کہ سردیوں کی شدید سر درات میں کپڑے دھو کر لٹکائے ہوئے تھے کہ مسیح پاک علیہ السلام کی طرف سے پیغام آیا کہ کسی مقدمہ کی پیروی کے لئے گورداسپور جانا ہے ساتھ جانے کے لئے ابھی آجائیں۔فدائی روشن علی اٹھا ، وہی گیلے کپڑے پہن لئے اور سردی سے بچاؤ کے لئے لحاف لپیٹ کر ساتھ ہولیا ! حضرات ! اطاعت کی اس جیسی ایمان افروز مثالوں سے اسلام واحمدیت کے ہر دو ادوار اس طرح بھرے پڑے ہیں جس طرح سمندر پانی سے بھرا ہوتا ہے لیکن یاد رہے کہ یہ باتیں صرف سننے سنانے کے لئے نہیں بلکہ یہ وہ معیار ہیں جو ہمیں دعوت عمل دیتے ہیں کہ ہم بھی ان سب دعوؤں کو سچ کر دکھائیں جو ہم ہر بار تجدید بیعت کے وقت کرتے ہیں۔ہم میں سے ہر ایک، ہر بار یہ کہتا ہے اور سینکڑوں بار کہتا آیا ہے کہ اے میرے آقا! میں آپ کے ہر حکم پر، آپ کے ہر اشارہ پر، آپ کی ہر خواہش پر سوجان