نظام خلافت — Page 105
105 سے قربان۔آپ مجھے جو بھی ارشاد فرمائیں گے، جو بھی معروف فیصلہ فرمائیں گے اس کی پابندی کرنا ضروری سمجھوں گا۔دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا اور اپنے عہد بیعت کی ایک ایک بات کو عمل کی دنیا میں سچ کر دکھاؤں گا۔پس اے احمدیت کے جانثارو! اسے خلافتِ احمدیہ کے پروانو ! آج وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنے سارے عبد و پیمان واقعی سچ کر دکھا ئیں۔ہمارے اسلاف نے جو نمونے دکھائے ان کو پھر تازہ کریں کہ ہم بھی تو اطاعت اور وفا کے دعووں میں اُن سے پیچھے نہیں۔دیکھو ہمارا محبوب آقا مسیح محمدی کا خلیفہ، اس دور میں اسلام کا سالا را عظم ، جس کے دستِ مبارک پر ہم نے سب کچھ قربان کرنے کا عہد کیا ہوا ہے وہ کتنے درد سے اور کتنے پیار سے ہمیں دعوت عمل دے رہا ہے۔آؤ! خلافت سے وفا کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ آؤ! اور آج اس مجلس سے یہ سچا عہد کر کے اٹھو کہ ہم خلافتِ احمدیہ کی حفاظت اور استحکام کے لئے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں گے، خلیفہ وقت کے دست و بازو اور ادنی چاکر بن کر ہمیشہ اس کی ہر آواز پر سچے دل سے لبیک کہیں گے۔ہمیشہ گوش بر آواز آقا بنے رہیں گے۔اور اے ہمارے محبوب آقا! تو نیکی کی جس راہ کی طرف بھی ہمیں بلائے گا ہم دیوانہ وار تیرے اشاروں پر اپنی جان، مال، وقت اور عزت، ہر چیز قربان کر دیں گے۔ہماری زندگی اور ہماری موت تیرے قدموں میں ہوگی اور ہم میں سے ایک ایک فرد خدا کو گواہ بنا