نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 372 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 372

ہوں۔یہ بالکل غلط ہے۔اگر میرا کوئی بیٹا ایسا خیال بھی دل میں لائے گا تو اسی وقت احمدیت سے نکل جائے گا۔بلکہ میں جماعت سے کہتا ہوں کہ وہ دعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ میری اولا دکو اس قسم کے وسوسوں سے پاک رکھے ایسا نہ ہو کہ اس پروپیگنڈا کی وجہ سے میرے کسی کمزور بچے کے دل میں خلافت کا خیال پیدا ہو جائے۔حضرت خلیفہ اسیح اول تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے غلام تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو آقا تھے اگر ان کی اولاد میں بھی کسی وقت یہ خیال پیدا ہو کہ وہ خلافت کو حاصل کریں تو وہ بھی تباہ ہو جائے گی۔کیونکہ یہ چیز خدا تعالیٰ نے اپنے قبضہ میں رکھی ہوئی ہے اور جو خدا تعالیٰ کے مال کو اپنے قبضہ میں لینا چاہتا ہے۔وہ چاہے کسی نبی کی اولا د ہو یا کسی خلیفہ کی ، وہ تباہ و برباد ہوجائے گی کیونکہ خدا تعالیٰ کے گھر میں چوری نہیں ہوسکتی۔چوری ادنیٰ لوگوں کے گھروں میں ہوتی ہے اور قرآن کریم کہتا ہے:۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمُ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلِفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهم ص (سورة النور: (۵۶) کہ مومنوں سے خدا تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں اسی طرح خلیفہ بنائے گا جیسے اس نے اس سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا۔گو یا خلافت خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھی ہے اور اس نے خود دینی ہے۔جو اسے لینا چاہتا ہے۔چاہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بیٹا ہو یا حضرت خلیفتہ اسیح الاول کا وہ یقیناً سزا پائے گا۔پس یہ مت سمجھو کہ یہ فتنہ جماعت کوئی نقصان پہنچا سکتا ہے۔لیکن پھر بھی تمہارا یہ فرض ہے کہ تم اس کا مقابلہ کرو اور سلسلہ احمدیہ کو اس سے بچاؤ“۔تاریخ احمدیت جلد ۱۹اص ۱۴۶، ۱۴۷ از مولانا دوست محمد شاہد صاحب)