نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 36
۱۵ نظام خلافت کے اغراض و مقاصد اللہ تعالیٰ نے اس عالم کا ئنات میں بیشمار اور ان گنت مخلوقات پیدا کی ہیں۔جن میں سے انسان کو یہ شرف اور اعزاز حاصل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔اس حقیقت کی تائید متعدد آیات کریمہ سے ہوتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں انسان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے:۔هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمُ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعاً (بقره:۳۰) وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے وہ سب کا سب پیدا کیا جو زمین میں ہے۔اسی طرح ایک دوسری آیت کریمہ میں فرمایا :۔وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِي آدَمَ وَحَمَلْنَهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنَهُمُ مِنَ الطَّيبَتِ وَفَضَّلْنَهُمْ عَلَى كَثِيرٍ مِمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيلاه (بنی اسرائیل : ۷۱) اور یقیناً ہم نے ابنائے آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی اور تری میں سواری عطا کی اور انہیں پاکیزہ چیزوں میں سے رزق دیا اور اکثر چیزوں پر جو ہم نے پیدا کیں انہیں بہت فضیلت بخشی۔پس اب ظاہر ہے کہ اس کائنات کی سب سے اہم مخلوق جس کے لئے یہ ساری کائنات پیدا کی گئی ہے۔ضرور اس کی پیدائش کا بھی کوئی مقصد ہونا چاہئے جوسب سے زیادہ اہم اور اعلیٰ ہونا چاہئے۔چنانچہ اس سلسلہ میں قرآن کریم کی درج ذیل آیت میں ہماری راہنمائی کی گئی ہے۔وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لَيَعْبُدُون (الذاريات: ۵۷) اور میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اور صرف اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے۔