نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 37 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 37

۱۶ انسان کی پیدائش کا مقصد عبادت قرار دینے میں دراصل حکمت دی تھی کہ اس طریق سے انسان خدا تعالیٰ کی صفات کا مظہر بن سکے۔جیسا کہ تَخَلَّقُوا باخلاق الله (التعريفات جلد اص ۱۲۱۶ از علی بن محمد بن علی جرجانی ) ( تم اللہ تعالیٰ کے اخلاق کو اپناؤ ) سے ظاہر ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی صفات کے مظہر بنو۔اسی طرح ایک حدیث میں آیا ہے کہ :۔إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ خَلَقَ آدَمَ عَلَى صُورَتِهِ۔(مسند احمد بن حنبل جلد دوم ص ۳۲۳) اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا ہے۔اب ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی مادی وجود نہیں ہے۔لہذ اس حدیث کا یہی مطلب ہے کہ انسان کی پیدائش کا مقصد اس کے ذریعہ صفات باری تعالیٰ کا ظہور تھا۔اسی طرح ایک حدیث قدسی ہے کہ كُنتُ كَنُرًا مَخْفِيًا فَاَرَدْتُ اَنْ أُعْرَفَ فَخَلَقْتُ آدَمَ۔(مزيل الخفاء والالباس جلد ۲ ص ۱۲۳ مصنفه اسمعیل بن العجلونی) یعنی میں نے ارادہ کیا کہ میں پہچانا جاؤں پس میں نے آدم کو پیدا کیا۔چنانچہ اسی عظیم مقصد کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا:۔إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً۔(بقرہ: ۳۱) یقیناً میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔پس یہی وہ عظیم مشن تھا جس کے پیش نظر انبیاءعلیہم السلام کا سلسلہ جاری کیا گیا۔جس کی ابتداء حضرت آدم علیہ السلام سے ہوئی اور تکمیل افضل الرسل خاتم الانبیاء حضرت محمہ کے بابرکت وجود سے ہوئی۔بعض روایات کے مطابق دنیا کو ہر قوم، ہر علاقے اور ہر زمانہ میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مبعوث ہوئے۔پھر انبیاء علیھم السلام کے ذریعہ جس نظام کی تخمریزی ہوئی اس کی آبیاری کے لئے انبیاء کے بعد