نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 294 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 294

حکومت تھی جو مسلمانوں پر بہت ظلم کرتی تھا اور ہر رنگ میں انہیں وہاں دیہاتی چلی آتی تھی۔جب یہ مظالم حد سے بڑھ گئے تو حضرت خلیفۃ امسیح الثانی کے دل میں کشمیری مسلمانوں کے لئے بہت ہی ہمدردی پیدا ہوئی چنانچہ آپ نے ان کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا۔آپ کی تحریک سے کشمیری مسلمانوں میں بیداری پیدا ہوئی اور انہوں نے سر دھڑ کی بازی لگا کر اپنی آزادی کی تحریک شروع کی جس وقت حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ان کی راہنمائی فرمائی۔ہندوستان کے بڑے بڑے مسلمان لیڈروں نے مل کر ۱۹۳۱ء میں ایک کمیٹی بنائی جس کا نام تھا ”آل انڈیا کشمیر کمیٹی“ اس میں ڈاکٹر سر محمد اقبال مرحوم اور دوسرے کئی بڑے بڑے مسلمان لیڈر شامل ہوئے اس کمیٹی کا صدر حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کو بنایا گیا۔اس کمیٹی نے حضور کی راہنمائی میں بہت کامیابی حاصل کی۔کشمیر کے ہندو راجہ کو کئی ایسے حق مسلمانوں کے دینے پڑے جن سے وہ پہلے محروم چلے آتے تھے۔چنانچہ کشمیر کے بڑے بڑے مسلمان لیڈر جن میں شیخ محمد عبد اللہ بھی شامل تھے۔حضرت اقدس سے قادیان جا کر ملتے رہے اور انہوں نے زبانی اور تحریری بھی یہ اعتراف کیا کہ حضور نے عین وقت پر کشمیری مسلمانوں کی بہت بھاری مدد کی ہے۔جب مخالفین نے یہ دیکھا کہ احمدی مسلمانوں میں بہت ہی مقبول ہور ہے ہیں اور سب بڑے بڑے مسلمان لیڈر ہر ضروری مسئلہ میں امام جماعت احمدیہ سے مشورہ کرتے ہیں اور پھر اس مشورہ پر عمل بھی کرتے ہیں تو حسد کی وجہ سے ان کا برا حال ہو گیا انہوں نے کشمیر کمیٹی میں بھی احمدی اور غیر احمدی کا سوال کھڑا کر دیا اور ہر جگہ لوگوں کو احمدیوں کے خلاف بھڑ کانے لگے۔جب حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ان کی شرارتوں کو دیکھا تو آپ نے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔مگر