نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 295
۲۷۴ اس استعفی کے باوجود کشمیری مسلمانوں کی آخری وقت تک مدد کر تے رہے۔۷) جب ملک کی تقسیم کا سوال پیدا ہوا تو اس وقت بھی حضرت اقدس نے مسلمانوں کے مفاد کے لئے بہت سے اہم کام سرانجام دیئے۔قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم ہندوستانی مسلمانوں کے اختلاف دیکھتے ہوئے لندن چلے گئے تھے اور وہاں مستقل رہائش اختیار کر لی تھی۔حضرت اقدس نے اپنے نمائندے کے ذریعے انہیں تحریک کی کہ آپ کو ہندوستانی مسلمانوں کی راہنمائی کے لئے واپس وطن آجانا چاہئے۔چنانچہ قائد اعظم واپس تشریف لے آئے اور آپ نے آل انڈیا مسلم لیگ کے جھنڈے تلے مسلمانوں کو جمع کر کے پاکستان حاصل کرنے کی جدوجہد شروع کی جسے خدا تعالیٰ نے کامیابی عطا فرمائی۔۱۹۴۷ء میں ملک کی تقسیم کے وقت کئی ایسے نازک وقت آئے جبکہ بظاہر معمولی سی غلطی کے نتیجہ میں مسلمانوں کو بہت نقصان کا خطرہ تھا۔ایسے نازک موقعوں پر بھی حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے قائد اعظم کی پوری پوری مدد کی اور پاکستان قائم کرنے کی جدو جہد میں حصہ لیا۔منارة اسبیح کی تکمیل منارة أصبح کی بنیاد خود حضرت مسیح موعود نے ۱۹۰۳ء میں رکھی تھی بعد میں مشکلات کی وجہ سے کام بند ہو گیا۔حضرت خلیفہ ثانی نے اپنے عہد خلافت کے ابتدائی زمانہ میں ہی اس کی طرف توجہ فرمائی۔چنانچہ ۱۹۱۴ء میں دوبارہ اس کی نظمیر کا کام شروع ہوا اور ۱۹۱۶ء میں منارۃ اصیح اپنی پوری شان کے ساتھ مکمل ہو گیا اور اس طرح حضور کے ذریعہ سے حضرت رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی ظاہری رنگ میں بھی پوری ہوگئی جس میں حضور نے مینارہ کے قریب مسیح موعود کے نزول کی بشارت دی تھی۔