نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 236 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 236

۲۱۵ حضرت خلیفۃ البیع الاول کے مختصر سوانح حیات قدرت ثانیہ کے مظہر اول آسمان احمدیت کے روشن ستارے، کمالات روحانیہ کے جامع ، صفات نورانیہ کے خزانہ ، معارف قرآنیہ کے چشمہ رواں ،شمع مہدویت کے پروانے ، صدیقی جمال کے مظہر، فاروقی جلال کے آئینہ حاجی الحرمین سید نا حضرت حافظ حکیم مولانا نورالدین صاحب بھیروی خلیفتہ المسیح الاول ۱۸۴۱ء میں پاکستان کے ایک قدیم اور تاریخی شہر بھیرہ میں پیدا ہوئے۔آپ کے والد محترم کا نام حضرت حافظ غلام رسول صاحب اور والدہ ماجدہ کا نام نور بخت تھا۔آپ کا سلسلہ نسب بتیس واسطوں کے ساتھ حضرت عمر فاروق تک اور والدہ ماجدہ کا سلسلہ نسب حضرت علی متک پہنچتا ہے۔اس لحاظ سے آپ فاروقی بھی ہیں اور علوی بھی۔آپ کا خاندان بہت علم دوست اور دیندار تھا۔دن رات قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ اس خاندان میں جاری تھا۔آپ نے قرآن کریم اپنی ماں کی گود میں ہی پڑھا تھا۔آپ شروع سے ہی غضب کا حافظہ رکھتے تھے حتی کہ آپ کو اپنا دودھ چھڑانا بھی یاد تھا۔آپ بچپن میں تیرا کی کے بہت شوقین تھے۔آپ کو بچپن ہی سے کتابوں کے ساتھ بہت محبت تھی۔جب بڑے ہوئے تو دینی علم حاصل کرنے کے لئے لاہور، رام پور، دہلی لکھنؤ اور بھوپال وغیرہ میں مقیم رہے۔نیز حصول علم کی خاطر ۶۶ - ۱۹۶۵ء میں آپ مکہ اور مدینہ میں بھی تشریف لے گئے۔ڈیڑھ برس وہاں رہ کر دینی علوم حاصل کئے اور حج کا شرف