نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 235 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 235

۲۱۴ ہیں جس کا کوئی رئیس نہیں وہ مر چکی۔(الحاکم ۶ جون ۱۹۰۸ء ص ۷،۸) اس تقریر کے بعد بیک زبان حاضرین نے بآواز بلند یہ عہد کیا کہ ہم آپ کے تمام احکام مانیں گے۔آپ ہمارے امیر ہیں اور مسیح موعود کے جانشین۔چنانچہ اس اقرار کے بعد الحاج حضرت حکیم نورالدین خلیفتہ المسیح الاول نے جملہ حاضرین سے جن کی تعداد بارہ سو تھی۔بیعت خلافت لی اور سلسلہ عالیہ احمدیہ کی تاریخ میں ایک نیا دن طلوع ہوا۔یہ دن قدرت ثانیہ کا دن تھا جس نے تا ابد جماعت احمدیہ کے ساتھ رہنا تھا اور جس کی خوشخبری حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جماعت کو دی تھی۔(بحوالہ سوانح فضل عمر جلد اص۱۸۱ تا ۱۸۳۔شائع کردہ فضل عمر فاؤنڈیشن ربوہ) پس اس طرح مسند احمد بن حنبل جلد ۴ ص ۲۷۳ کی مذکورہ بالا حدیث کے مطابق امت محمدیہ میں ایک بار پھر خلافت علی منہاج النبوۃ کا قیام عمل میں آیا۔جس نے قیامت تک جاری و ساری رہنا ہے۔حضرت خلیفہ اسی الاول کی بیعت کامل اتحاد کے ساتھ ہوئی جس میں ایک منفرد آواز بھی خلاف نہیں اٹھی اور نہ صرف افراد جما اعت نے اور حضرت مسیح موعود علیہ - السلام کے خاندان نے آپ کی خلافت کو تسلیم کیا بلکہ صدرانجمن احمدیہ نے بھی ایک متحدہ فیصلہ کے ماتحت اعلان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وصیت کے مطابق حضرت مولوی نورالدین صاحب کو حضرت مسیح موعود کا خلیفہ منتخب کیا گیا ہے اور ساری جماعت کو آپ کی بیعت کرنی چاہئے۔اعلان خواجہ کمال الدین سیکرٹری صدر انجمن احمد یہ بحوالہ احکام ۲۸ مئی ۱۹۰۸ء والبدر۲ جون ۱۹۰۸ء)