نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 237
۲۱۶ حاصل کرنے کے بعد وطن واپس لوٹے اور بھیرہ میں قرآن مجید و احادیث کے درس و تدریس کا سلسلہ جاری کر دیا۔ساتھ ہی آپ نے مطب بھی شروع کر دیا۔طب میں آپ کی شہرت اتنی بڑھی کہ دور دراز کے لوگ آپ کی خدمت میں علاج کے لئے حاضر ہوتے تھے۔حتی کہ کشمیر کے مہاراجہ کی درخواست پر آپ وہاں تشریف لے گئے اور ایک عرصہ تک خاص شاہی طبیب کے طور پر دوبار جموں وکشمیر سے وابستہ رہے۔اس عرصہ میں آپ مطب کے علاوہ ریاست میں اسلام کی تبلیغ واشاعت کے لئے بھی کوشاں رہے اور درس و تدریس کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔۱۸۸۵ء میں حضرت مولوی صاحب نے حضرت مسیح موعود کا ایک اشتہار پہلی بار پڑھا۔اس کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ حضور کی زیارت کے لئے قادیان پہنچ گئے اور حضور پر پہلی نظر ڈالتے ہی حضور کی صداقت کے قائل ہو گئے۔یہ آپ کی حضور کے ساتھ پہلی ملاقات تھی۔اس ملاقات کے بعد آپ ہمیشہ کے لئے حضور کے جانثار خادموں میں شامل ہو گئے۔جب ۱۸۸۹ء میں بمقام لدھیانہ پہلی بار بیعت ہوئی تو آپ نے سب سے پہلے نمبر پر بیعت کرنے کا فخر حاصل کیا۔۱۸۹۰ء میں جب حضور نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو پھر بلا تامل حضرت ابوبکر کی طرح آپ حضور کے دعوئی پر ایمان لے آئے۔حضرت مولوی صاحب کی پہلی شادی تیس برس کی عمر میں بمقام بھیرہ مفتی شیخ مکرم صاحب قریشی عثمانی کی صاحبزادی محترمہ فاطمہ بی بی صاحبہ سے ہوئی۔آپ کی یہ اہلیہ ۱۹۰۵ء میں وفات پاگئی۔اس اہلیہ کے بطن سے ۹ بیٹے اور ۵ بیٹیاں پیدا ہوئیں۔آپ کی دوسری شادی ۱۸۸۹ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریک پر لدھیانہ میں حضرت صوفی احمد جان صاحب کی صاحبزادی حضرت صغریٰ بیگم صاحبہ سے ہوئی۔