نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 230 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 230

۲۰۹ لندن کے جملہ فیصلہ جات کو من و عن تسلیم کرنے کے پابند ہوں گے۔یو کے میں صدر انجمن احمدیہ کے اجلاسات ایڈیشنل صدر صدر انجمن احمدیہ کی زیر صدارت ہوں گے۔اور اس غرض کے لئے مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب کو ایڈیشنل صدر صدر انجمن احمد یہ مقرر کیا گیا۔یہ بھی قرار پایا کہ ناظران ور وکلاء کی سنیارٹی لسٹ کی منظوری حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ سے حاصل کی جائے گی۔سیکریٹری مجلس شوری مجلس انتخاب خلافت کا بھی سیکریٹری ہوتا ہے۔اس کے متعلق یہ قاعدہ منظور کیا گیا کہ تا اطلاع ثانی مکرم عطاء المجیب راشد صاحب اس مجلس کے سیکریٹری ہوں گے اور اگر وہ اس موقع پر لندن میں موجود نہ ہوں تو جو بھی عملاً بھی حضور کے پرائیویٹ سیکریٹری کے فرائض سرانجام دے رہا ہو وہ سیکریٹری کے فرائض ادا کرے گا۔سیکریٹری مجلس شوری بحیثیت سیکریٹری شوری ووٹنگ ممبر نہیں ہوں گے۔حضور نے یہ تجویز بھی منظور فرمائی کہ ہر وہ شخص جس نے کسی وقت نظام جماعت کے خلاف کسی کا رروائی میں حصہ لیا ہو یا جو ایسے لوگوں کے ساتھ ملوث رہا ہو اس کے نام انتخاب خلافت کے لئے پیش نہیں ہو سکے گا۔صدرانجمن احد یہ ایسے افراد کے ناموں کی فہرست تیار کر کے حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ سے اس کی منظور حاصل کرے گی۔انتخاب خلافت حاضر اراکین کی سادہ اکثریت سے ہوگا اور جس کے حق میں سب سے زیادہ آراء ہوں گی وہی منتخب خلیفہ ہوگا۔اور کسی کو اس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ہوگا۔اور تمام افراد جماعت ہائے احمد پہ عالمگیر منتخب خلیفہ کی بیعت کریں گے۔۲۳ نومبر ۱۹۸۵ کو حضرت خلیفہ اسیح کے دستخطوں سے ایک سرکلر جاری ہوا اور ان ترمیم شدہ قوانین کو حتمی حیثیت حاصل ہوگئی۔