نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 231 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 231

۲۱۰ 1999ء میں جب حضرت خلیفہ اسیح کی بیماری شروع ہوئی تو حضور نے بعض احتمالات کے پیش نظر ان قواعد میں بعض ترامیم کی ضرورت محسوس کی۔چنانچہ چوہدری حمید اللہ صاحب وکیل اعلیٰ تحریک جدید اور مکرم مرزا خورشید احمد صاحب ناظر امور خارجہ صدر انجمن احمدیہ ( جو ان دنوں لندن آئے ہوئے تھے ) نے حضرت خلیفہ اسیح الرابع کی ہدایات کے مطابق بعض ترامیم مرتب کیں اور پھر حضور کی ہدایات کے مطابق ان مجوزہ ترامیم کو صد را مجمن احمد یہ پاکستان تحریک جدید انجمن احمد یہ پاکستان اور وقف جدید انجمن احمد یہ پاکستان کے اراکین پر مشتمل شوری کو مشورے کے لئے بھجوایا گیا۔اس کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ قواعد انتخاب خلافت کا اکثر حصہ تو اسی طرح برقرار رہے گا جو ۱۹۸۵ء میں کچھ ترامیم کے بعد منظور کیا گیا تھا لیکن اب ان میں مندرجہ ذیل ترامیم کی جائیں گی جو فوری طور پر نافذ العمل ہوں گی۔۱۹۸۵ء میں یہ ترمیم کی گئی تھی کہ تا اطلاع ثانی انتخاب خلافت ربوہ کی بجائے اسلام آباد یو کے میں ہوگا۔اب یہ ترمیم کی گئی کہ تا اطلاع ثانی یہ انتخاب مسجد فضل لندن یو کے میں ہوگا۔یہ ترامیم بھی منظور کی گئیں کہ اگر انتخاب خلافت لندن میں ہو تو ایڈیشنل ناظر اعلیٰ مقیم لندن کا فرض ہوگا کہ جب تک ناظر اعلی صدرانجمن احمد یہ لندن نہ پہنچے وہ جملہ فرائض ناظر اعلی صدرانجمن احمد یہ پاکستان کی ہدایات کے مطابق ان کی نمائندگی میں ان کے اٹارنی کے طور پر ادا کرے۔اگر کسی اشد مجبوری کی وجہ سے یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ انتخاب خلافت تین اندر کے اندر نہیں ہوسکتا تو صدرانجمن احمد یہ یہ فیصلہ کرنے کی مجاز ہوگی اور اس درمیانی عرصہ میں صدر انجمن احمد یہ جماعت کے جملہ کاموں کو