نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 194
۱۷۳ جب نبی کریم ﷺ نے نبوت کا دعوی کیا تو آپ تجارت کے سلسلے میں مکے سے باہر گئے ہوئے تھے۔اس وقت ان کی عمر تقریباً چونتیس برس تھی۔جب سفر سے واپس آئے اور آنحضرت کے دعویٰ کا حال سنا تو حضرت ابوبکر صدیق سے ملے۔جن سے ان کے پرانے تعلقات چلے آتے تھے۔حضرت ابوبکر انہیں لے کر درباری نبوی میں حاضر ہوئے اور انہوں نے بلا حیل و حجت اسلام قبول کرلیا۔آپ ان صحابہ میں سے ہیں جنہیں قبول اسلام کی پاداشت میں خوفناک مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔عہد خلافت حضرت عثمان کے خلیفہ مقرر ہو جانے پر جب سب لوگوں نے آپ سے بیعت کر لی تو حضرت عثمان نے منبر رسول پر کھڑے ہو کر ایک فصیح و بلیغ خطبہ ارشاد فرمایا۔آپ نے حمد و ثناء اور نعت رسول کریم کے بعد عوام کو عمل صالح اور ثواب آخرت کی طرف توجہ دلائی اور مال و دولت کی کثرت کے باعث مسلمانوں میں جو تبدیلی پیدا ہوتی جارہی تھی اس سے منع کیا اور فرمایا کہ دنیا ایک فریب کا جال ہے۔اس سے بیچ کر رہو۔شیطان کے پھندے سے بچو اور اپنی زندگیوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں خرچ کرو۔اس کے بعد مختلف اسلامی صوبوں کے حاکموں اور افسران فوج کے نام فرمان جاری کئے کہ رعایا کے ساتھ عدل وانصاف کا برتاؤ کرو اور جس طرح خلفائے سابق رضوان اللہ علیھم اجمعین کے زمانے میں مذہبی اور سیاسی امور کو نیک نیتی اور تن دہی سے انجام دیتے چلے آئے ہو اسی پر کام کرتے چلے آؤ۔مگر بد قسمتی سے حضرت عثمان کے عہد خلافت کو بمشکل چھ سال گزرے تھے کہ