نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 195
۱۷۴ ہمدان والوں نے بغاوت کر دی اور ان کو دیکھ کر اہل الرائے بھی باغی ہو گئے۔مگر مغیرہ بن شعبہ اور ابوموسیٰ اشعری کی کوششوں سے یہ بغاوتیں فرو کر دی گئیں۔مصر والوں نے بھی بغاوت کر دی جسے عمرو بن العاص نے جا کر رفع کر دیا۔مختصر یہ کہ بغاوتوں کا ایک سلسلہ یکے بعد دیگرے چل نکلا۔حتی کہ بغاوت کا یہ سلسلہ سندھ تک پھیل گیا مگر ابن عامر نے دانائی اور بہادری سے ان سب کا خاتمہ کر دیا۔ان تمام بغاوتوں کے ساتھ ساتھ فتوحات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔اندرونی فتنه حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں مسلمان نہ صرف آسوده حال بلکہ بہت کافی و دولت مند ہو کر اسراف کی طرف مائل ہو چکے تھے۔حضرت عثمان نے جائیداد بنانے اور دولت جمع کرنے کی اجازت دے دی تھی جس کے نتیجہ میں عدم اطاعت اور بغاوت کی روح پروان چڑھ چکی تھی۔دوسری طرف بصرہ کے ایک شخص عبداللہ بن سبا نے سر نکالا۔یہ بظاہر تو مسلمان تھا مگر تھا منافق اور اندر ہی اندر امت مسلمہ میں افتراق وانتشار اور خلافت عثمان کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔اس تمام صورت حال کا نتیجہ یہ نکلا کہ حضرت عثمان کے خلاف بغاوت نے اتنا زور پکڑ لیا کہ کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا۔حتی کہ باغیوں نے حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور یہ سلسلہ ۲ روز تک رہا۔بالآخر مورخہ ۱۸ ذی الحجہ ۳۵ ھ بمطابق ۲۱ مئی ۶ ۶۵ ء کو حضرت عثمان کو انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا گیا۔اس منحوس صورتحال سے امت میں زبر دست فتنہ شروع ہو گیا اور مسلمان ایک دوسرے سے برسر پیکار اور خون کے پیاسے ہو گئے۔