نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 193 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 193

عبد الرحمن بن عوف نے کہا کہ سب سے پہلے میں اپنا نام واپس لیتا ہوں۔پھر حضرت عثمان نے کہا پھر باقی دو نے۔حضرت علیؓ خاموش رہے۔آخر انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن عوف سے عہد لیا کہ وہ فیصلہ کرنے میں کوئی رعایت نہیں کرے گا انہوں نے عہد کیا اور سب کام ان کے سپر د ہو گیا۔حضرت عبدالرحمن بن عوف تین دن مدینہ کے ہر گھر گئے اور مردوں اور عورتوں سے پوچھا کہ ان کی رائے کس شخص کی خلافت کے حق میں ہے۔سب نے یہی کہا کہ انہیں حضرت عثمان کی خلافت منظور ہے۔چنانچہ انہوں نے حضرت عثمان کے حق میں اپنا فیصلہ دے دیا اور وہ خلیفہ ہو گئے۔(خلافت راشدہ بحوالہ انوار العلوم جلد ۵ صفحه ۴۸۴، ۴۸۵) مختصر سوانح عثمان حضرت عثمان کا تعلق قریش کے قبیلہ بنوامیہ سے تھا۔باپ کی طرف سے پانچویں اور ماں کی طرف سے چوتھی پشت میں آپ کا شجرہ نسب آنحضرت سے جاملتا ہے۔آنحضرت کی ولادت کے پانچ سال بعد آپ کی ولادت ہوئی۔زمانہ کفر میں آپ کی کنیت ابو عمر و تھی مگر اسلام لانے کے بعد اس کو بدل کر اپنی کنیت ابو عبداللہ رکھ لی۔آپ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ کے عقد میں یکے بعد دیگرے آنحضرت کی دو صاحبزادیاں حضرت رقیہ اور حضرت ام کلثوم آئیں۔اسی وجہ سے آپ ” ذوالنورین یعنی ( دونوروں والا ) کہلاتے ہیں۔حضرت عثمان شروع سے ہی مشرکانہ رسوم ، شراب نوشی اور قمار بازی جیسی لغویات کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔حالانکہ اس زمانہ کے نوجوانوں کے لئے یہ برائیاں دولت مندی اور برائی کا نشان سمجھی جاتی تھیں۔