نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 158 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 158

باب چہارم خلافت و مجددیت آنحضرت کی ایک معروف حدیث ہے کہ:۔إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ عَلَى رَأْسِ كُلِّ مِلَّةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُلَهَا دِيْنَهَا۔(سنن ابو داؤد جلد ۳ کتاب الملاحم باب مایذکر فی قرن المأة مطبع نولکشور) یعنی اللہ تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایک مجدد مبعوث کرے گا جو اس کے دین کی تجدید کرے گا۔اس حدیث کی روشنی میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا خلافت کی موجودگی میں بھی مجددین مبعوث ہوتے رہیں گے؟ اس کے جواب میں عرض ہے کہ خلافت کی موجودگی میں کسی مجدد کے آنے کی ضرورت نہیں کیونکہ خلیفہ کا کام ہی تجدید دین کرنا ہوتا ہے اور خلیفہ وقت ہی اپنے زمانہ کا مجدد ہوتا ہے۔لہذا خلیفہ کی موجودگی میں کسی مجدد کی ضرورت نہیں ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس ارشاد سے ظاہر ہے کہ :۔خلیفہ کے معنی جانشین کے ہیں۔جو تجدید دین کرے۔نبیوں کے زمانے کے بعد جو تاریکی پھیل جاتی ہے۔اس کو دور کرنے کے واسطے جو ان کی جگہ آتے ہیں ان کو خلیفہ کہتے ہیں۔( ملفوظات جلد چہارم ص ۸۳ پرانا ایڈیشن) پس خلیفہ کے معنی نبی کریم کے اس جانشین کے ہیں۔جوضرورت کے وقت تجدید دین کی خاطر آئے اور ان میں صحیح اسلامی روح پیدا کرے اور بدعات کو دور کرے۔