نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 159 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 159

۱۳۸ اور ایسے سامان پیدا کرے کہ امت مسلمہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور فضلوں کے زیادہ سے زیادہ وارث بن سکیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ:۔خلیفہ خود مجدد سے بڑا ہوتا ہے اور اس کا کام ہی احکام شریعت کو نافذ کرنا اور دین کو قائم کرنا ہوتا ہے۔اس کی موجودگی میں مجدد کیسے آسکتا ہے“۔(الفضل ۱۸ اپریل ۱۹۴۷ء ص ۲) حضرت خلیفہ اسیح الثالث اس سلسلہ میں فرماتے ہیں:۔ہر احمدی کو یہ اچھی طرح ذہن نشین کر لینا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد مجددین کی آمد کا سلسلہ بند ہو گیا ہے۔اور خدا تعالیٰ نے محض اپنے کرم سے انبیاء کے طریق پر نظام خلافت کو قائم فرمایا ہے۔اور خلفاء بلاشبہ مجددین ہیں۔اس نظام کو غیر معمولی محبت ، فدائیت اور نا قابل شکست و فاداری کے ساتھ محفوظ رکھنا ہے۔اسلام کی برتری کے لئے موجودہ نسلوں کے دلوں میں بھی اس بات کو راسخ کر دینا چاہئے۔اخبار بدر قادیان ،۲۳ مارچ ۱۹۷۸ء) اس سلسلہ میں حضرت خلیفہ مسیح الرابع فرماتے ہیں:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔یہ قدرت قیامت تک ہے“۔اور خدا نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ قیامت تک یہ قدرت منقطع نہیں ہوگی۔پس خلافت اگر قیامت تک قائم ہے تو اس کے ہوتے ہوئے مجددیت کا سوال کیا باقی رہ جاتا ہے۔۔۔۔حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ نے جہاں مجددیت کی پیشگوئی فرمائی وہاں قیامت تک کا کوئی ذکر نہیں فرمایا۔لیکن جہاں مسیح موعود کی پیشگوئی فرمائی وہاں یہ