نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 129
۱۰۸ بباطن اس میں خدائی تصرف اور خدائی قوتیں کام کر رہی ہیں۔حضرت رسول مقبول نے جنگ بندر کے موقع پر مٹھی میں کنکر لئے اور ان کنکروں کو دشمن کی طرف آپ نے پھینکا تو اگر چہ بظاہر وہ ایک انسان کی مٹھی تھی اور کنکر بھی ایک مٹھی میں جتنے آسکتے ہیں اتنے ہی تھے مگر جب حضرت رسول اکرم ﷺ نے اس مٹھی سے کنکر پھینکے تو خدا تعالیٰ نے فرمایا:۔مَارَمَيْتَ اذْرَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَىط (الانفال: ۸۱) کہ کنکروں کی یہ ٹھی تو نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ تعالیٰ نے پھینکی ہے۔نتیجہ بتا تا ہے کہ وہ انسان کی مٹھی کے پھینکے ہوئے کنکر نہ تھے۔جن سے عظیم الشان انقلاب پیدا ہوا اور اس کے نتیجہ میں وہ مسلمان جو دشمن کے مقابلہ میں بظاہر کمزور تھے اپنے سے تین گنا مسلح اور جرار لشکر پر غالب آگئے۔پس بالکل اسی طرح خلیفہ کا انتخاب گو بظا ہر مومنوں کی جماعت کرتی ہے لیکن در پردہ اس انتخاب میں خدا تعالیٰ کی قدرت کام کر رہی ہوتی ہے۔خدا تعالیٰ بطور نشان ان مومنوں کو اپنا آلہ بنالیتا ہے اور ان سے انتخاب کروا کر اپنی تقدیر پوری کرواتا ہے اور اس کے متعلق یہ قرار دیتا ہے کہ اس شخص کو مقام خلافت پر میں نے فائز کیا ہے اور اسے خلافت کا جامہ میں نے پہنایا ہے۔اس کے ساتھ نصرت خداوندی اور تائیدات الہی سے ظاہر ہونے والے نتائج یہ ثابت کر رہے ہوتے ہیں کہ یہ انسان کا کام نہیں۔انسان کو مجال نہیں کہ وہ اتنے بڑے بوجھ کو اٹھا سکے اور اتنے بڑے کام کو انجام دے سکے جب تک خدائی طاقتیں اور اعلیٰ قوتیں اس کے ساتھ نہ ہوں۔یہی وجہ ہے کہ ہر خلیفہ راشد غیر معمولی حالات و مشکلات کے باوجود کامیاب و کامران ہوتا ہے۔کیونکہ دراصل وہ انسانوں کا بنایا ہوا خلیفہ نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کا بنایا ہوا خلیفہ ہوتا ہے۔