نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 128
۱۰۷ ہے جسے وہ بہت حقیر سمجھتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ اس کو چن کر اس پر اپنی عظمت اور جلال کا ایک جلوہ کرتا ہے اور جو کچھ وہ تھا اور جو کچھ اس کا تھا اس میں سے وہ کچھ بھی باقی نہیں رہنے دیتا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے سامنے کلی طور پر فنا اور بے نفسی کا لبادہ پہن لیتا ہے۔“ ( الفضل کے امارچ ۱۹۶۷ء ) خلیفہ کے انتخاب میں حکمت قرآن کریم، احادیث نبویہ، اقوال بزرگان سلف و خلف نیز خدا تعالی کی فعلی شہادت سے یہ حقیقت روز روشن کی طرح ظاہر و باہر وعیاں ہو چکی ہے کہ ”خلیفہ خدا بناتا ہے“۔اور خلافت اللہ تعالیٰ کا وہمی عطیہ ہے۔خلیفہ کا انتخاب تو محض اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کا ایک عملی اظہار ہے۔اور اس صورتحال کو قرآن کریم کی ان آیات کی روشنی میں بآسانی سمجھا جاسکتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔ہے۔يَهَبُ لِمَنْ يَّشَاءُ اِنثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذكور۔(شوری: ۵۰) یعنی اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا اب اس آیت کریمہ سے صاف ظاہر ہے کہ بیٹے ، بیٹیاں پیدا کرنا تو اللہ تعالیٰ کے اپنے اختیار میں ہے۔مگر بیٹوں یا بیٹیوں کے حصول کے لئے شادی کرنا اور ازدواجی تعلقات کا قائم ہونا شرط ہے۔قرآن مجید سے یہ بات ثابت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی کے واسطہ سے کام کرواتا اور پھر اسے اپنی طرف منسوب کرتا ہے تو اس شخص میں خدائی قو تیں بھی داخل کر دی جاتی ہیں تا دنیا کو یہ بات سمجھ آجائے کہ اگر چہ ظاہر میں تو کچھ اور نظر آرہا ہے لیکن