نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 130
1+9 اس صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے اپنی کتاب سلسلہ احمدیہ ص ۳۰۷ پر تحریر فرماتے ہیں :۔خلفاء کے تقر ر اور ان کے مقام کے متعلق اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ خلافت کا منصب کسی صورت میں بھی ورثہ میں نہیں آسکتا۔بلکہ یہ ایک مقدس امانت ہے جو مومنوں کے انتخاب کے ذریعہ جماعت کے قابل ترین شخص کے سپرد کی جاتی ہے اور چونکہ نبی کی جانشینی کا مقام ایک نہایت نازک اورا ہم روحانی مقام ہے اس لئے اسلام ی تعلیم دیتا ہے کہ گو بظاہر خلیفہ کا انتخاب لوگوں کی رائے سے ہوتا ہے مگر اس معاملہ میں خدا تعالیٰ خود آسمان سے نگرانی فرماتا ہے اور اپنے تصرف خاص سے لوگوں کی رائے کو ایسے رستہ پر ڈال دیتا ہے جو اس کے منشاء کے مطابق ہو۔اس طرح گو بظاہر خلیفہ کا تقر را نتخاب کے ذریعہ عمل میں آتا ہے مگر دراصل اس انتخاب میں خدا کی مخفی تقدیر کام کرتی ہے اور اسی لئے خدا نے خلفاء کے تقر ر و خود اپنی طرف منسوب کیا ہے اور فرمایا ہے کہ خلیفہ ہم خود بناتے ہیں۔یہ ایک نہایت لطیف روحانی انتظام ہے جسے شاید دنیا کے لوگوں کے لئے سمجھنا مشکل ہو مگر حقیقت یہی ہے کہ خلیفہ کا تقرر ایک طرف تو مومنوں کے انتخاب سے اور دوسری طرف خدا کی مرضی کے مطابق ظہور پذیر ہوتا ہے اور خدائی تقدیر کی مخفی تاریں لوگوں کے دلوں کو پکڑ پکڑ کر منظور ایزدی کی طرف مائل کر دیتی ہیں۔پھر جب ایک شخص خدائی تقدیر کے ماتحت خلیفہ منتخب ہو جاتا ہے تو اس کے متعلق اسلام کا حکم یہ ہے کہ تمام مومن اس کی پوری پوری اطاعت کریں۔اور خود اس کے لئے یہ حکم ہے کہ وہ تمام اہم ضروری امور میں مومنوں کے مشورہ سے کام کرے اور گو وہ مشورہ پر عمل کرنے کا پابند نہیں بلکہ اگر مناسب خیال کرے تو مشورہ کو رد کر کے اپنی رائے سے جس طرح چاہے فیصلہ کر سکتا ہے۔مگر بہر حال اسے مشورہ