نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 103
۸۲ ۲۔شرک سے اجتناب کرنا آیت استخلاف میں ہماری دوسری ذمہ داری یہ بیان فرمائی کہ يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ط یعنی ( مؤمن خلافت کی برکت سے ) صرف میری عبادت کریں اور کسی دوسرے کو میرا شریک نہ ٹھہرائیں۔پس آیت استخلاف کے مطابق ہماری دوسری ذمہ داری خدا تعالیٰ کی خالص توحید کو دنیا میں قائم کرنا، خود بھی صرف اسی کی عبادت کرنی ہے اور دوسروں کو بھی صرف اسی کی عبادت کرنے کی تحریک کرنی ہے۔چنانچہ اس سلسلہ میں حضرت مسیح موعود فر ماتے ہیں:۔اس سے بڑھ کر ایک اور بات بتا تا ہوں اور وہ یہ ہے کہ انسان کو چاہئے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے۔اللہ ایک ہے۔میں یقین کرتا ہوں کہ کوئی احمدی، مشرک نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ نے ان کو موحد بننے کی توفیق دی ہے۔اس لئے مجھے یہ تو ڈر نہیں کہ کوئی احمدی بتوں کے آگے سجدہ کرے گا ، یا خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی اور کا دامن پکڑنے کی کوشش کرے گا۔۔اس لئے اس جماعت کے متعلق صریح شرک کا احتمال نہیں کیا جاسکتا۔( برکات دعاص ۱۸ اروحانی خزائن جلد ۶) ۳۔خلفاء کی کامل اطاعت آیت استخلاف کے معاً بعد آیت میں خلافت کی نعمت کا وعدہ کرنے کے ساتھ ہی ہمیں ہماری ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتا ہے:۔وَاقِيمُوا الصَّلوةَ وَاتُوا الزَّكَوةَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (نور:۵۷)