نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 102
Al دائم رہے تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے ایمان اور اعمال کو درست رکھیں۔جیسا کہ حضرت مصلح موعود اس تعلق میں فرماتے ہیں:۔وو یہ وعدہ امت سے اس وقت تک کے لئے ہے جب تک کہ امت مؤمن اور عمل صالح کرنے والی ہو۔جب وہ مومن اور عمل صالح کرنے والی نہیں رہے گی تو اللہ تعالیٰ اپنے اس وعدہ کو واپس لے لے گا۔گویا نبوت اور خلافت میں یہ عظیم الشان فرق بتایا کہ نبوت تو اس وقت آتی ہے۔جب دنیا خرابی اور فساد سے بھر جاتی ہے۔جیسے فرمایا۔ظهر الفساد في البر والبحر كہ جب بر اور بحر میں فساد واقع ہو جاتا ہے ، لوگ خدا تعالیٰ کو بھول جاتے ہیں، الہی احکام سے اپنا منہ موڑ لیتے ہیں، ضلالت اور گمراہی میں گرفتار ہو جاتے ہیں اور تاریخی زمین کے چپہ چپہ کا احاطہ کر لیتی ہے تو اس وقت لوگوں کی اصلاح کے لئے خدا تعالیٰ کسی نبی کو بھیجتا ہے جو پھر آسمان سے نور ایمان کو واپس لا تا اور ان کو بچے دین پر قائم کرتا ہے لیکن خلافت اس وقت آتی ہے جب قوم میں اکثریت مومنوں اور عمل صالح کرنے والوں کی ہوتی ہے۔گویا نبوت تو ایمان اور عمل صالح کے مٹ جانے پر آتی ہے اور خلافت اس وقت آتی ہے جب قریباً تمام کے تمام لوگ ایمان اور عمل صالح پر قائم ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ خلافت اسی وقت شروع ہوتی ہے جب نبوت ختم ہوتی ہے کیونکہ نبوت کے ذریعہ ایمان اور عمل صالح قائم ہو چکا ہوتا ہے اور چونکہ اکثریت ابھی ان لوگوں کی ہوتی ہے جو ایمان اور عمل صالح پر قائم ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ انہیں خلافت کی نعمت دے دیتا ہے۔اور درمیانی زمانہ جبکہ نہ تو دنیا نیکو کاروں سے خالی ہو اور نہ بدی سے پُر ہو دونوں سے محروم رہتا ہے کیونکہ نہ تو بیماری شدید ہوتی ہے کہ نبی آئے اور نہ تندرستی کامل ہوتی ہے کہ ان سے کام لینے والا خلیفہ آئے۔