نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 104
۸۳ یعنی اور نماز قائم کرو۔اور زکوۃ ادا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔پس اس آیت کریمہ میں ہمیں ہماری تین بنیادی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔جن کے پیش نظر نظام خلافت قائم کیا گیا ہے۔ا۔نماز کا قیام ۲۔ادائے زکوۃ ۳۔اطاعت رسول نماز اور زکوۃ اسلام کے بنیادی پانچ اراکین میں سے ہیں۔جس سے ان کی اہمیت و برکات کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے اور اطاعت رسول تو درحقیقت اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت ہے۔یہ تینوں باتیں ایسی ہیں جو خدا تعالیٰ کا رحم جذب کرنے کا ذریعہ ہیں جیسا کہ فرمایا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔پس نظام خلافت کے وعدہ کے معا بعدان امور کا ذکر اس بات پر شاہد ہے کہ ان تینوں امور کا تعلق نظام خلافت سے ہے۔نظام خلافت کے ساتھ وابستگی کے بغیر ان فرائض کو ہم کماحقہ سرانجام نہیں دے سکتے۔جیسا کہ حضرت مصلح موعود سورۃ النور آیت ۵۶ کی تفسیر کے تحت فرماتے ہیں:۔پھر خلافت کے ذکر کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نصیحت کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ وَأَقِيمُوا الصَّلوةَ وَآتُوا الزَّكَوةَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ۔یعنی جب خلافت کا نظام جاری کیا جائے تو اس وقت تمہارا فرض ہے کہ تم نمازیں قائم کرو اور زکوۃ دو اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کرو۔گویا خلفاء کے ساتھ دین کی تمکین کر کے وہ اطاعت رسول کرنے والے ہی قرار پائیں گے۔یہ وہی نکتہ ہے جو رسول کریم ﷺ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا کہ مَنْ أَطَاعَ أَمِيرِى فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ عَصَى اَمِيُرِى فَقَدْ عَصَانِی یعنی جس نے میرے مقرر کردہ امیر کی اطاعت