نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 100 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 100

۷۹ کرے۔تزکیہ کا کام انسان کے اپنے اختیار میں نہیں بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے اپنے قبضہ اور اختیار میں ہے۔اب سوال ہوتا ہے کہ جب یہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے تو نبی کو کیوں کہا کہ وہ پاک کرے۔مختصر طور پر میں یہاں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس کا ذریعہ بھی اللہ تعالیٰ نے آپ ہی بتا دیا ہے کہ پاک کرنے کا کیا طریق ہے اور وہ ذریعہ دعا ہے۔پس نبی کو جو حکم دیا گیا ہے کہ ان لوگوں کو پاک کرے تو اس سے مراد یہ ہے کہ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کرے۔وَيُزَكِّيهِمْ - يُزَكِّيهِمْ کے معنوں پرغور کیا تو ایک تو یہی بات ہے جو میں بیان کر چکا ہوں کہ دعاؤں کے ذریعہ تزکیہ کرے۔پھر ابن عباس نے معنے کئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اخلاص پید کرنا۔غرض ایک تو یہ معنے ہوئے کہ گناہوں سے بچانے کی کوشش کرے۔اس لئے جماعت کو گناہوں سے بچانا ضروری ٹھہرا کہ وہ گناہوں میں نہ پڑے اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے یہ کام ہوا کہ صرف گناہوں سے نہ بچائے بلکہ ان میں نیکی پیدا کرے۔دوسرے الفاظ میں یوں کہو کہ ایک تو وہ تدابیر اختیار کرے جن سے جماعت کے گناہ دور کر دے۔دوسرے ان کو خوبصورت بنا کر دکھا دے۔اعلیٰ مدارج کی طرف لے جاوے اور ان کے کاموں میں اخلاص اور اطاعت پیدا کرے۔پھر تیسرے معنے بھی وَيُزَكِّيهِمْ کے ہیں وہ یہ کہ ان کو بڑھائے۔ان معانی کے لحاظ سے دین و دنیا میں ترقی دینا ضروری ہوا۔اور یہ ترقی ہر پہلو سے ہونی چاہئے۔دنیوی علوم میں دوسروں سے پیچھے ہوں تو اس میں ان کو آگے لے جاوے۔تعداد میں کم ہوں تو بڑھائے۔مالی حالت کمزور ہو تو اس میں بڑھاوے۔غرض جس رنگ میں بھی کمی ہو بڑھاتا چلا جاوے۔اب ان معنوں کے لحاظ سے