نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 101
۸۰ جماعت کی ہر قسم کی ترقی نبی اور اس کے ماتحت اس کے خلیفہ کا فرض ہوا۔پھر جب میل سے پاک کرنا اور ترقی کرانا اس کا کام ہوا تو اسی میں غرباء کی خبر گیری بھی آگئی کیونکہ وہ بھی ایک دنیاوی میل سے لتھڑے ہوتے ہیں ان کو پاک کرنا اس کا فرض ہے اس غرض کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے زکوۃ کا صیغہ رکھا ہے کیونکہ جماعت کے غرباء اور مساکین کا انتظام کرنا بھی خلیفہ کا کام ہے اور اس کے لئے روپیہ کی ضرورت ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے خود ہی اس کا بھی انتظام فرما دیا اور امراء پر زکوۃ مقررفرمائی۔الغرض نبی کا کام بیان فرمایا تبلیغ کرنا ، کافروں کو مومن کرنا، مومنوں کو شریعت پر قائم کرنا، پھر باریک در باریک راہوں کا بتانا۔پھر تزکیہ نفس کرنا۔یہی کام خلیفہ کے ہوتے ہیں۔منصب خلافت - انوار العلوم جلد ۳ ص ۲۶ تا ۲۸) نظام خلافت اور ہماری ذمہ داریاں ا۔کامل ایمان اور عمل صالح بجالانا اللہ تعالیٰ اور رسول خدا ﷺ نے خود نظام خلافت کے تعلق میں ہماری ذمہ داریاں بیان فرما دی ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ آیت استخلاف میں ہماری پہلی ذمہ داری یہ بیان فرماتا ہے کہ:۔وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ آیت استخلاف کے اس حصہ میں خلافت جیسی عظیم نعمت کو ایمان اور عمل صالح کے ساتھ مشروط قرار دیا ہے۔پس اگر ہم چاہتے ہیں کہ خلافت کی نعمت ہم میں ہمیشہ قائم و