نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 416 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 416

۳۹۵ خلاف نہیں ہوتا۔جیسے اگر کسی کے ساتھ پانچ روپے کا وعدہ کیا جائے اور اسے دس روپے دے دیئے جائیں تو یہ نہیں کہا جائے گا کہ وعدہ کی خلاف ورزی ہوئی۔پس اس کے صرف یہ معنی ہیں کہ جس طرح رسول کریم ﷺ پہلوں سے افضل تھے۔آپ کی خلافت بھی پہلے انبیاء کی خلافت سے افضل تھی۔دوسرا جواب یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں عُلَمَاءُ أُمَّتِي كَانُبِيَاءِ بنی إِسْرَائِيلَ یعنی میری امت کے علماء انبیاء بنی اسرائیل کی طرح ہیں۔اس کے یہ معنی نہیں کہ امت محمدیہ کا جو بھی عالم ہے وہ انبیاء بنی اسرائیل کی طرح ہے کیونکہ علماء کہلانے والے ایسے ایسے لوگ بھی ہیں جن کی دینی اور اخلاقی حالت کو دیکھ کر رونا آتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ان علماء سے مراد دراصل خلفاء ہیں جو علماء روحانی ہوتے ہیں اور اس ارشاد نبوی سے اس طرح ارشاد کیا گیا ہے کہ پہلے نبیوں کے بعد جو کام بعض دوسرے انبیاء سے لیا گیا ہے کہ پہلے نبیوں کے بعد جو کام بعض دوسرے انبیاء سے لیا گیا تھا وہی کام میری امت میں اللہ تعالیٰ بعض علماء ربانی یعنی خلفائے راشدین سے لے گا۔چنانچہ موسیٰ کے بعد جو کام یوشع سے لیا گیا وہ اللہ تعالیٰ ابوبکر سے لے گا اور جو کام داؤد سے لیا گیا وہ اللہ تعالیٰ عمرؓ سے لے گا اور جو کام بعض اور انبیاء مثلاً سلیمان وغیرہ سے لیا گیا وہ اللہ تعالیٰ عثمان اور علی سے لے گا۔غرض رسول کریم ہے نے اس حدیث میں اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے وہ مقام ما بخشا ہے کہ میری امت کے خلفاء وہی کام کریں گے جو انبیاء سابقین نے کیا۔پس اس جگہ علماء سے مرا د رشوتیں کھانے والے علماء نہیں بلکہ ابوبکر عالم ، عمر عالم، عثمان عالم اور علی عالم مراد ہیں۔چنانچہ جب ادنی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو پیدا کر دیا اور پھر زیادہ روشن صورت میں جب زمانہ کو ایک نبی کی ضرورت تھی اللہ تعالیٰ نے اس