نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 417 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 417

وعدہ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ سے پورا کر دیا۔گو فرق یہ ہے کہ صلى الله پہلے انبیاء براہ راست مقام نبوت حاصل کرتے تھے مگر آپ کو نبوت رسول کریم ہے کی غلامی کی وجہ سے ملی۔(خلافت راشدہ۔انوار العلوم جلد ۵ اص۶۰ ۵ تا ۵۶۴) سوال نمبر ۳:۔تیسرا سوال یہ کیا جاتا ہے کہ اس آیت میں كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ آیا ہے۔چلو ہم مان لیتے ہیں کہ پہلے خلفاء اس آیت کے ماتحت تھے کیونکہ ان کے پاس نظام ملکی تھا لیکن اس آیت سے وہ خلافت جواحد یہ جماعت میں ہے کیونکر ثابت ہوگئی کیونکہ ان کے پاس تو کوئی نظام ملکی نہیں؟ جواب:۔اس کا جواب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وعدہ یہ کیا ہے کہ وہ آمَنُوا اور و عَمِلُوا الصَّلِحَتِ کی مصداق جماعت کو خلیفہ بنائے گا اور خلیفہ کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے سے پہلے کا نائب ہوتا ہے۔پس وعدہ کی ادنی حد یہ ہے کہ ہر نبی کے بعد اس کے نائب ہوں اور یہ ظاہر ہے کہ جس رنگ کا نبی ہوا گر اسی رنگ میں اس کا نائب بھی ہو جائے تو وعدہ کی ادنی حد پوری ہو جاتی ہے اور چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپر دملکی نظام نہ تھا اس لئے آپ کی امر نبوت میں جو شخص نیابت کرے وہ اس وعدہ کو پورا کر دیتا ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کوملکی نظام عطا ہوتا تب تو اعتراض ہو سکتا تھا کہ آپ کے بعد کے خلفاء نے نیابت کس طرح کی مگر نظام ملکی عطا نہ ہونے کی صورت میں یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کیونکہ جس نبی کا کوئی خلیفہ ہوا سے وہی چیز ملے گی جو نبی کے پاس ہوگی اور جو اس کے پاس ہی نہیں ہوگی وہ اس کے خلیفہ کوکس طرح مل جائے گی۔غرض جس رنگ کا کوئی شخص ہو اسی رنگ کا اس کا جانشین ہوتا ہے۔چونکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سپر دملکی نظام نہیں تھا اس لئے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ