نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 415
۳۹۴ اصل بات یہ ہے کہ رسول کریم مکہ سے پہلے کے انبیاء چونکہ کامل شریعت لے کر نہ آئے تھے اس لئے ان کے بعد یا نبی مبعوث ہوئے یا ملوک پیدا ہوئے۔چنانچہ جب اصلاح خلق کے لئے الہام کی ضرورت ہوتی تو نبی کھڑا کر دیا جاتا مگر اسے نبوت کا مقام براہ راست حاصل ہوتا اور جب نظام میں خلل واقع ہوتا تو کسی کو بادشاہ بنادیا جا تا اور چونکہ لوگوں کو ابھی اس قدر ذہنی ارتقاء حاصل نہیں ہوا تھا کہ وہ اپنی اصلاح کے لئے آپ جد و جہد کر سکتے اس لئے نہ صرف انبیاء کو اللہ تعالیٰ براہ راست مقام نبوت عطا فرما تا بلکہ ملوک بھی خدا کی طرف سے ہی مقرر کئے جاتے تھے۔جیسے قرآن کریم میں آتا ہے کہ اِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكَاطالوت کو تمہارے لئے خدا نے بادشاہ بنا کر بھیجا ہے۔گویا ابھی لوگ اس قابل نہیں ہوئے تھے کہ خود اپنے بادشاہ کا بھی انتخاب کر سکیں اور نہ شریعت اتنی کامل تھی کہ اس کے فیضان کی وجہ سے کسی کو مقام نبوت حاصل ہو سکتا مگر رسول کریم نے چونکہ ایک کامل تعلیم لے کر آئے تھے اس لئے دونوں قسم کے خلفاء میں فرق ہو گیا۔پہلے انبیاء کے خلیفے تو نبی ہی ہوتے تھے گواہیں نبوت مستقل اور براہ راست حاصل ہوتی تھی اور اگر انتظامی امور چلانے کے لئے ملوک مقرر ہوتے تو وہ انتخابی نہ ہوتے بلکہ یا تو ورثہ کے طور پر ملوکیت کو حاصل کرتے یا نبی انہیں اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت بطور بادشاہ مقرر کر دیتے۔مگر رسول کریم ﷺ کی قوم چونکہ زیادہ اعلیٰ درجہ کی تھی۔اس لئے آپ کے بعد خلفاء انبیاء کی ضرورت نہ رہی اس کے ساتھ ہی ملوکیت کی ادنیٰ صورت کو اڑا دیا گیا اور اس کی ایک کامل صورت آپ کو دی گئی اور یہ ظاہر ہے کہ اسلامی خلافت کے ذریعہ سے جس طرح قوم کے ساتھ وعدہ پورا ہوتا ہے کہ اس میں انتخاب کا عنصر رکھا گیا ہے اور قومی حقوق کو محفوظ کیا گیا ہے وہ پہلے بادشاہوں کی صورت میں نہ تھا اور زیادہ کامل صورت کا پیدا ہو جانا وعدہ کے