نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 302 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 302

سامان جمع کرو۔۲۸۱ انگلستان کے قیام کے دوران آپ نے آکسفورڈ یونیورستی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی اور اشاعت دین حق میں مصروف رہے۔لندن میں آپ نے ایک رسالہ بھی الاسلام کے نام سے جاری فرمایا۔آپ نومبر ۱۹۳۸ء کو کامیابی کے ساتھ واپس تشریف لائے۔یورپ سے واپس تشریف لا کر پہلے آپ جامعہ احمدیہ کے پروفیسر رہے اور پھر ۱۹۳۹ء میں آپ جامعہ احمدیہ کے پرنسپل مقرر ہوئے۔فروری ۱۹۳۹ء سے لے کر اکتوبر ۱۹۴۹ء تک آپ مجلس خدام الاحمدیہ کے صدر رہے اور پھر نومبر ۱۹۵۴ء تک آپ اس کے نائب صدر رہے کیونکہ صدارت کے عہدے پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی خود فائز تھے۔آپ کے عہد میں خدام الاحمدیہ نے نمایاں اور شاندار ترقی کی۔مئی ۱۹۴۴ء سے لے کرنومبر ۱۹۹۵ء تک ( تا خلافت) آپ تعلیم الاسلام کالج کے پرنسپل رہے۔۱۶ نومبر ۱۹۴۷ء کو آپ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے ارشاد پر قادیان سے ہجرت کر کے پاکستان تشریف لے آئے۔۱۹۵۳ء کے فسادات کے دوران جب مارشل لاء نافذ ہوا تو آپ کو قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرنا پڑیں۔۲۸ مئی ۱۹۵۳ء کو آپ رہا ہوئے۔۱۹۵۴ء میں آپ کو مجلس انصاراللہ کا صدر بنادیا گیا۔آپ کے ذریعہ سے اس تنظیم کو ایک نئی زندگی حاصل ہوگئی۔مئی ۱۹۵۵ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے آپ کو صدر انجمن احمدیہ کا صدر مقرر فرمایا۔چنانچہ انتخاب خلافت تک آپ اس حیثیت سے بھی جماعت کا نہایت اہم کام سرانجام دیتے رہے۔۸ نومبر ۱۹۶۵ء کو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی وفات پر آپ خلافت ثالثہ کے عہدے پر فائز ہوئے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی وہ بشارت پوری ہوئی جو حضرت خلیفہ