نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 303
۲۸۲ المسیح الثانی کواللہ تعالیٰ نے دی تھی۔حضور نے ۲۶ستمبر ۱۹۰۹ کو یہ تحریرفرمایا تھا کہ:۔مجھے بھی خدا تعالیٰ نے یہ خبر دی ہے کہ میں تجھے ایسا لڑکا دوں گا جو دین کا ناصر ہوگا۔اور اسلام کی خدمت پر کمر بستہ ہوگا“۔( تاریخ احمدیت جلد ۴ ص ۳۲۰) خلافت ثالثہ کا ظہور بھی خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے نہایت کامیاب اور مبارک رہا۔آپ کے دور خلافت کی پیشگوئی بھی آج سے ہزاروں سال قبل سے چلی آتی ہے۔چنانچہ اسرائیل کی مشہور حدیث طالمود میں آج سے ہزاروں سال قبل یہ بتایا گیا تھا کہ جب مسیح فوت ہو جائے گا تو اس کی بادشاہت پہلے اس کے بیٹے اور پھر اس کے پوتے کو ملے گی۔چنانچہ خلافت ثالثہ کے ذریعہ یہ پیشگوئی لفظ بلفظ پوری ہوگئی۔خلافت ثالثہ کے شیر میں ثمرات خلافت ثالثہ کا بابرکت عہد سترہ سال تک رہا۔اس سترہ سالہ دور میں بھی اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے کئی نشان ہم دیکھ چکے ہیں جو اس خلافت میں جاری ہونے والی با برکت تحریکوں کے ذریعہ ظاہر ہوئے۔چنانچہ حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کی وفات پر جماعت کے تمام افراد جس طرح خلافت ثالثہ کے ذریعے ایک ہاتھ پر جمع ہو گئے وہ احمدیت کی صداقت اور خلافت احمدیہ کی سچائی کا ایک نشان ہے۔آپ نے جماعت کو یہ عظیم ماٹو دیا:۔"Love For All Hatered For None" آپ نے براعظم افریقہ، یورپ اور امریکہ کے کئی کامیاب دور کئے۔براعظم افریقہ میں احمدیہ کا پیغام جس شان سے آپ کے بابرکت دور میں پھیلا وہ ایک عظیم درخشندہ باب ہے۔خدا تعالیٰ کے اذن سے جاری کردہ نصرت جہاں سکیم ، بہت ہی