نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 238
۲۱۷ ان کی وفات ۱۹۵۵ء میں بمقام ربوہ ہوئی۔ان کے بطن سے ۶ بیٹے اور ایک بیٹی پیدا ہوئی۔آپ نے ۸۸-۱۸۸۷ء میں حضرت مسیح موعود کی تحریک پر عیسائیت کے رد میں ایک کتاب فصل الخطاب“ شائع فرمائی۔پھر ۱۸۹۰ء میں حضور کی زیر ہدایت پنڈت لیکھرام کی کتاب ” تکذیب براہین احمدیہ کے جواب میں ” تصدیق براہین احمدیہ لکھی۔اسی طرح ایک مرتد آریہ دھرم پال ( سابق عبدالغفور ) نے ”ترک اسلام“ نامی ایک کتاب لکھی جس کے جواب میں آپ نے ایک مفصل کتاب ”نورالدین کے نام سے تصنیف فرمائی۔۱۹۰۴ء میں آپ نے ایک رسالہ بعنوان ”ابطال الوہیت مسیح عیسائیت کے رد میں تصنیف فرمایا۔اسی طرح لڑکوں اور لڑکیوں کو مسائل نماز سے عام فہم الفاظ میں واقف کرنے کے لئے جنوری ۱۹۰۶ء میں ”د مینیات کا پہلا رسالہ تالیف فرمایا۔جو بہت مقبول ہوا۔ملازمت سے فراغت اور قادیان میں ہجرت ۱۸۹۲ء میں ریاست جموں وکشمیر سے آپ کی ملازمت کا سلسلہ جو ۱۸۸۶ء میں قائم ہوا تھا ختم ہو گیا۔آپ نے ریاست میں قرآن کریم کے درس و تدریس اور تبلیغ دین حق کا جو سلسلہ شروع کر رکھا تھا وہی اس ملازمت کے خاتمہ کا موجب ہوا۔مہاراجہ رنبیر سنگھ کی وفات پر اس کے جانشین مہاراجہ پرتاپ سنگھ اور اس کے چند در باری اسلام سے اور حضرت مولوی صاحب سے خاص بغض و تعصب رکھتے تھے۔چنانچہ انہوں نے آپ کو ملازمت سے فارغ کر دیا۔آپ وہاں سے واپس اپنے وطن بھیرہ تشریف لے آئے جہاں پر آپ نے وسیع پیمانے پر ایک شفاخانہ قائم کرنے کا