نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 239 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 239

۲۱۸ ارادہ کیا اور عالی شان مکان کی تعمیر شروع کروادی۔۱۸۹۳ء میں جبکہ مکان کی تعمیر بھی جاری تھی آپ کسی کام کے لئے لا ہور تشریف لے گئے وہاں پر آپ کو حضرت مسیح موعود کی زیارت کا خیال آیا۔چنانچہ آپ قادیان تشریف لے گئے۔حضور نے فرمایا اب تو آپ ملازمت سے فارغ ہیں۔یہاں رہیں۔حضرت مولوی صاحب نے سمجھا کہ دو چار روز اور ٹھہر لیتا ہوں۔ایک ہفتہ بعد حضور نے فرمایا آپ اکیلے یہاں رہتے ہیں اپنی بیویوں کو بھی یہیں منگوالیں۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے دونوں بیویوں کو بلا لیا۔پھر ایک دن حضور نے فرمایا۔آپ کو کتابوں کا شوق ہے اپنا کتب خانہ بھی یہیں منگوا لیں۔چنانچہ کتب خانہ بھی بھیرہ سے قادیان آ گیا۔چند دنوں کے بعد حضور نے فرمایا۔مولوی صاحب! اب آپ وطن کا خیال چھوڑ دیں۔چنانچہ حضرت مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے وطن کا خیال ایسے چھوڑ دیا کہ کبھی خواب میں بھی وطن نہیں دیکھا“۔قادیان میں ہجرت کے بعد کئی لوگوں نے آپ کو لاہور یا امرتسر میں جا کر شفاخانہ کھولنے کی تحریک کی لیکن آپ نے اپنے آقا کے قدموں میں ہی رہنا پسند کیا۔یہیں پر دن رات دین کی خدمت کرنے میں مصروف رہے اور ہر وقت حضرت مسیح موعود کی ہدایت اور حکم کی تعمیل کرنے کے لئے تیار رہتے۔مریضوں کو دیکھتے۔قرآن وحدیث کا درس دیتے نمازیں پڑھاتے۔وعظ ونصیحت کرتے۔حضور کی کتب کے پروف پڑھنے اور حوالے نکالنے کا کام کرتے تھے۔جب کالج جاری ہوا تو اس میں عربی پڑھاتے تھے۔جب صدر انجمن احمد یہ قائم ہوگئی تو حضرت مسیح موعود نے آپ کو اس کا پریذیڈنٹ مقرر فرما دیا۔پھر غرباء کی امداد اور ہمدردی کا بھی ہمیشہ خیال رکھتے۔غرض قادیان آکر حضرت مولوی صاحب نے اپنی زندگی دین کے لئے بالکل وقف کر دی۔