نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 192 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 192

خلافت حضرت عثمان حضرت عثمان کا انتخاب حضرت عمر جب زخمی ہوئے اور آپ نے محسوس کیا کہ اب آپ کا آخری وقت قریب ہے تو آپ نے چھ آدمیوں کے متعلق وصیت کی کہ وہ اپنے میں سے ایک کو خلیفہ مقرر کر لیں۔وہ چھ آدمی یہ تھے۔حضرت عثمان ، حضرت علی، حضرت عبدالرحمن بن عوف ،حضرت سعد بن الوقاص، حضرت زبیر، حضرت طلحہ۔اس کے ساتھ ہی حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو بھی آپ نے اس مشورہ میں شریک کرنے کے لئے مقرر فرمایا مگر خلافت کا حقدار قرار نہ دیا اور وصیت کی کہ یہ سب لوگ تین دن میں فیصلہ کریں اور تین دن کے لئے صہیب کو امام الصلوۃ مقرر کیا اور مشورہ کی نگرانی مقداد بن الاسودؓ کے سپرد کی اور انہیں ہدایت کی کہ وہ سب کو ایک جگہ جمع کر کے فیصلہ کرنے پر مجبور کریں اور خود تلوار لے کر دروازہ پر پہرہ دیتے رہیں اور فرمایا کہ جس پر کثرت رائے سے اتفاق ہو۔سب لوگ اس کی بیعت کریں اور اگر کوئی انکار کرے تو اسے قتل کر دو لیکن اگر دونوں طرف تین تین ہو جائیں تو عبداللہ بن عمران میں سے جس کو تجویز کریں وہ خلیفہ ہو۔اگر اس فیصلہ پر وہ راضی نہ ہوں تو جس طرف عبدالرحمن بن عوف ہوں وہ خلیفہ ہو۔آخر پانچوں اصحاب نے مشورہ کیا ( کیونکہ طلحہ اس وقت مدینہ میں نہ تھے ) مگر کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔بہت لمبی بحث کے بعد حضرت عبدالرحمن بن عوف نے کہا کہ اچھا جو شخص اپنا نام واپس لینا چاہتا ہے وہ بولے جب سب خاموش رہے تو حضرت