نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 191
حضرت عمرؓ کے زمانہ خلافت میں دین اسلام کو جو رونق ہوئی اور سلطنت کو وسعت ملی۔تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔نواح شام اور عراق تو خلیفہ اول کے وقت میں فتح ہو چکے تھا۔شام، فلسطین، مصر، خوزستان، عراق، عجم ، آذربائیجان، کرمان، سیستان، مکران، خراسان حضرت عمر فاروق کے عہد خلافت میں ہی اسلامی جھنڈے کے ما تحت آئے۔روما اور ایران جیسی عظیم الشان سلطنتوں کو نیچا دیکھنا پڑا۔غرضیکہ آپ کے عہد خلافت میں اسلام کو جو برتری، فوقیت اور عالمگیر شہرت ملی وہ کسی دوسری کو نصیب نہیں ہوئی۔رضی اللہ نھم ورضوانہ عنہ۔شہادت مدینہ میں حضرت عمر بن شعبہ کا ایک ایرانی غلام ابولولو فیروز تھا۔اس نے ایک بار حضرت عمرؓ سے شکایت کی کہ مغیرہ نے مجھ پر محصول زیادہ لگا رکھا ہے۔اس کو کم کرادیجئے۔پوچھا کہ کس قدر ہے؟ کہا دو درہم روزانہ۔حضرت عمرؓ نے پوچھا کہ تم کام کیا کرتے ہو؟ اس نے جواب دیا۔”نجاری، نقاشی اور آہن گری“۔فرمایا کہ ان دستکاریوں کے ساتھ تو دو در ہم روزانہ کچھ زیادہ نہیں۔اس فیصلہ سے وہ ناراض ہو گیا۔دوسرے دن صبح کے وقت مسجد میں گیا۔حضرت عمر نماز پڑھا رہے تھے۔اس نے دو دھارنے خنجر سے حضرت عمرہ پر کئی وار کئے۔جس کے نتیجہ میں آپ کی شہادت ہوئی۔اللَّهُمَّ اغْفِرُهُ وَارُحَمَهُ وَاَدْخِلُهُ فِى اَعْلى عَلِيّين۔آپ کی خلافت کا عرصہ تقریباً اسال بنتا ہے۔( خلفائے اربع صفحه ۱۰۱ از مطبوعہ فیروز پرنٹنگ ورکس لاہور با ہتمام عبدالحمید خان)