نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال

by Other Authors

Page 152 of 482

نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 152

۱۳۱ خلیفہ سے غلطی کا امکان ایک سوال اٹھایا جاتا ہے کہ کیا خلیفہ کوئی غلطی کر سکتا ہے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے حضرت مصلح موعوددؓ بیان فرماتے ہیں کہ :۔میں اس بات کا قائل نہیں کہ خلیفہ کوئی غلطی نہیں کر سکتا۔مگر اس بات کا قائل ہوں کہ وہ کوئی ایسی غلطی نہیں کر سکتا جس سے جماعت تباہ ہو۔وہ اس اور اس کام میں غلطی کر سکتا ہے۔مگر سب کاموں میں غلطی نہیں کر سکتا اور اگر وہ کوئی ایسی غلطی کر بھی بیٹھے جس کا اثر جماعت کے لئے تباہی خیز ہو تو خدا تعالیٰ اس غلطی کو بھی درست کر دے گا اورس کے نیک نتائج پیدا ہوں گے۔یہ عصمت کسی اور جماعت یا کسی اور مجلس کو حاصل نہیں ہو سکتی۔میں مانتا ہوں کہ خلفاء غلطی کرتے رہے اور اب بھی کر سکتے ہیں۔بعض اوقات میں فیصلہ کرتا ہوں جس کے متعلق بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ غلطی ہوئی ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ غلطی سے زیادہ محفوظ کون ہے۔اجتہادی اور سیاسی غلطیاں رسول سے بھی ہو سکتی ہیں۔پھر خلیفہ ایسی غلطیوں سے کس طرح بچ سکتا ہے۔نبی اجتہاد کی غلطی کرسکتا ہے۔بحیثیت فقیہ غلطی کر سکتا ہے۔بحیثیت بادشاہ غلطی کر سکتا ہے۔لیکن بحیثیت نبی غلطی نہیں کر سکتا۔اور وہ باتیں جو نبی سے بحیثیت فقیہ اور بحیثیت حاکم تعلق رکھتی ہیں۔خلفاء ان میں نبی کے وارث ہوتے ہیں۔خلفاء نبی کی ہر بات کے وارث ہوتے ہیں۔سوائے نبوت کے اور جو احکام نبوت کے سوا نبی کے لئے جاری ہوتے ہیں وہی خلیفہ کے لئے جاری ہوتے ہیں۔۔۔بیشک خلفاء غلطی کر سکتے ہیں۔مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اگر ان کے آگے سر تسلیم