نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 151
خلیفہ وقت کے ساتھ بحث و تمہیں میں پڑنا سوء ادب ہے اور خلیفہ وقت کے فیصلہ کو تسلیم کرنے میں ہی برکت ہے۔جیسا کہ شاہ اسمعیل شہید فرماتے ہیں:۔ایک ان میں سے تعیین احکام کا اجرا بذمہ امام ہے۔مثلاً اگر کسی وقت کوئی مقدمه سیاست سے پیش آئے یا مہمات دین سے کوئی مہم ظاہر ہو تو اگر امت میں پیغمبر موجود ہو تو ان کو لائق نہیں کہ اس پر سبقت کریں یا قیل وقال شروع کر دیں یا آپس میں مشورہ کر کے کسی حکم کی تعیین کرلیں اور اپنی عقل و تدبیر اور رائے و قیاس کو دوڑا ئیں۔بلکہ چاہئے یہ کہ آپ اس مقدمے میں سکوت اختیار کریں اور اس مقدمے کو پیغمبر کے حضور میں پہنچائیں اور منتظر ر ہیں کہ اس مقدمے میں پیغمبر کیا حکم صادر فرماتا ہے اور کس طریق سے بیان فرماتا ہے۔الغرض حکومت پیغمبر کا منصب ہے اور اطاعت امت کا مرتبہ ہے۔چنانچہ ارشاد باری ہے۔يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُوْلِهِ وَاتَّقُوا إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ (حجرات) اے ایمان والو اللہ اور اس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اللہ سے ڈرو اللہ تعالیٰ سننے والا جاننے والا ہے۔اسی طرح لازم ہے کہ احکام کا اجرا اور مہمات کا انجام امام کے سپرد کیا جائے اور اس سے قیل و قال اور بحث و جدال نہ کی جائے اور کسی مہم میں خود بخود اقدام نہ کیا جائے۔اس کے حضور میں زبان بند رکھیں اور اپنی رائے سے سرانجام مقدمات میں دخل نہ دیں اور کسی طرح بھی اس کے سامنے استقلال کا دم نہ ماریں۔( منصب امامت - ص ۱۵۰ ۱۵۱ از شاه اسمعیل شہید بار دوم ۱۹۶۹ ء نقوش پریس لاہور )