نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 441
۴۲۰ کے قائم مقام ایک ایک آدمی ہوں گے بلکہ یہ بھی کہ ان کے اعمال ایک سنت نیک ہوں گے جن پر چلنا مومن کا فرض ہے اور ان کے خلاف چلنا ضلالت ہے۔ایک اور حدیث بھی ہے جس میں رسول کریم علیہ فرماتے ہیں۔اگر دو خلیفے ہوں تو ایک کو قتل کر دینا چاہئے۔اذابـويـع لخليفتين فاقتلوا الآخر منهما (مسلم)جب دو خلیفوں کی بیعت کی جائے تو جو بعد میں ہواسے قتل کر دو۔پس صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم نے ایک ہی خلیفہ تجویز کیا ہے اور جمہوریت کو قطعاً پسند نہیں کیا۔اس سے بھی بڑھ کر یہ بات ہے کہ حدیث میں حضرت عباس کی نسبت یہ دعا آئی ہے کہ واجعل الخلافة باقية في عقبہ۔اس کی اولاد میں خلافت کا سلسلہ جاری رکھ۔خلفاء اربعہ کی خلافت کے آسمانی اور خدائی ہونے کا ثبوت یہ بھی ہے کہ رسول کریم نے حضرت عثمان کو فرمایا۔انه لعل الله يقمصک قمیصا فان ارادوک على خلعه فلا تخلعه لهم (ترمذی) یعنی خدا تعالیٰ تجھے کرتہ پہنائے گا۔اور لوگ اسے اتارنا چاہیں گے۔مگر تم اسے ہرگز نہ اتارنا۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ خلافت کا سلسلہ اسلام میں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوا۔کیونکہ رسول کریم نے یہ فرمایا ہے کہ خدا تجھے کرتہ پہنائے گا۔نہ یہ کہ لوگ پہنا ئیں گے۔خلافت کو خدا کی طرف منسوب کیا ہے۔اگر جمہوریت اسلام میں ہوتی۔تو آنحضرت یہ فرماتے کہ لوگ تجھے کرتا پہنانا چاہیں گے لیکن تم انکار کر دیجیو۔اور کہہ دیجیو کہ یہ جمہوریت کے خلاف ہے۔اور تعلیم اسلام کے خلاف۔اس لئے میں خلیفہ نہیں بنتا۔مگر آپ نے فرمایا کہ خدا پہنائے گا اور لوگ اتارنا چاہیں گے۔مگر تم جمہوریت کا ذرا خیال نہ کرلو۔اور یہ کرنہ نہ ا تار یو۔پس صاف معلوم ہوا کہ خلافت ہی اسلام کے احکام کے ماتحت ہے نہ جمہوریت۔