نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 442
۴۲۱ اس جگہ یہ بات خاص طور پر یاد رکھنی چاہئے کہ باوجود یکہ حضرت عثمان کی خلافت کا فیصلہ ایک مجلس شوری کے ذریعہ قرار پایا تھا مگر پھر بھی آنحضرت یہ حضرت عثمان سے فرماتے ہیں کہ قمیص خلافت کا پہنانے والا خدا تعالیٰ ہوگا نہ کہ مجلس شوری۔اسی طرح حدیث میں ہے کہ ایک عورت رسول کریم کے پاس آئی اور آپ سے کچھ سوال کیا۔آپ نے اسے فرمایا کہ پھر آنا۔اس نے کہا کہ اگر میں آؤں اور آپ نہ ہوں یعنی آپ فوت ہو چکے ہوں۔آپ نے فرمایا کہ اگر تو مجھے نہ پائے تو ابو بکر سے کہیو۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے علم میں آپ کے بعد خلافت شخصی تھی (جس کو آپ نے بھی حکم قرار دیا۔اور اپنا قائم مقام نہ صرف تسلیم فرمایا بلکہ خود بتا دیا) نہ جمہوریت۔ورنہ یوں فرماتے کہ میرے بعد انجمن کے پاس آئیو۔جو میرے قائم مقام ہو۔نیز احادیث سے ثابت ہے کہ نبی کریم جب کبھی کسی سفر یا غزوہ پر جاتے تھے تو مدینہ میں کسی ایک شخص کو اپنا خلیفہ بنا جاتے تھے۔خلافت کے مسئلہ پر صحابہ کا تعامل اور اجماع قرآن وحدیث کے بعد اجماع صحابہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔والسابقون الاولون من المهاجرين والانصار والذين اتبعوهم باحسان رضی الله عنهم ورضوا عنه۔اور مہاجرین وانصار سے سابق اور اول صحابہ اور جو پوری طرح ان کی اتباع کریں۔اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ تعالیٰ سے راضی ہوئے۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ صحابہ کی اتباع ہی پر خدا راضی ہوسکتا ہے اور صحابہ کا اجماع دوم اس بات پر ہوا ہے کہ رسول کریم کا اس سے پہلا اجماع قائم مقام کوئی خلیفہ ہونا چاہئے اور سب صحابہ نے حضرت ابوبکر کے ہاتھ پر