نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 440
بنتا ہے۔۴۱۹ مندرجہ بالا حوالجات سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ قرآن شریف سے شخصی خلافت ثابت ہے نہ کہ جمہوری اور قدیم سے اللہ تعالیٰ کی سنت یہی چلی آئی ہے کہ وہ نبی کے بعد ایک شخص کو خلیفہ بناتا ہے اور اس کے بعد دوسرے کو نہ یہ کہ چند آدمیوں کو ایک ہی وقت میں خلیفہ بنا دیتا ہے۔شخصی خلافت کا ثبوت حدیث سے احادیث سے ثابت ہے کہ خلیفہ کا وجود ضروری ہے اور آنحضرت نے بھی جمہوریت کو نہیں قائم کیا بلکہ خلافت کو قائم کیا ہے اور یہی نہیں بلکہ آپ نے صحابہ گو وصیت کی کہ میرے بعد اختلافات پھیلیں گے مگر تم میرے خلفاء کی سنت پر عامل ہونا اور انہیں کے طریق پر چلنا۔اوصیکم بتقوى الله والسمع والطاعة وان كان عبدا حبشيـا فـانـه مـن يعش منكم بعدى فيرى اختلافا كثيرًا فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدين المهدين من بعدى تمسكوا بها و عضوا عليها بالنواجذ اياكم ومحدثات الامور میں تمہیں تقویٰ اللہ کی ہدایت کرتا ہوں اور اطاعت و فرمانبرداری کی۔خواہ تم پر حبشی غلام ہی سردار کیوں نہ ہو۔کیونکہ میرے بعد جو زندہ رہیں گے اور جلدی ہی دیکھیں گے کہ بہت اختلاف ہو جائے گا۔پس تم میری اور میرے خلفاء کی جو راشد اور مہدی ہوں گے سنت کو مضبوط پکڑنا اور دانتوں میں زور سے دبائے رکھنا۔یعنی چھوڑنا نہیں اور نئی نئی باتیں جو نکلیں ان سے بچنا۔اس حدیث میں رسول کریم نے اپنی امت کو خلفاء راشدین کی سنت پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔اس حدیث سے نہ صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم