نظامِ خلافت اور خلافت احمدیہ کے سو سال — Page 378
۳۵۷ نیز بتایا کہ:۔یہ امر ظاہر ہے کہ سلسلہ احمدیہ میں خلافت ایک بہت لمبے عرصہ تک چلے گی جس کا قیاس بھی اس وقت تک نہیں کیا جاسکتا۔۔۔کیونکہ جو کچھ اسلام کے قرون اولیٰ میں ہوا وہ ان حالات سے مخصوص تھا وہ ہر زمانہ کے لئے قاعدہ نہیں“۔(الفضل ۳ را پریل ۱۹۵۲ء ص ۳ مضمون حضرت مصلح موعودؓ ) خلافت کے دائمی ہونے کے متعلق حضرت مصلح موعود فرماتے ہیں:۔خلافت ہمیشہ قائم رہے گی۔آدم سے لے کر آج تک خلافت میں وقفہ نہیں ہوا۔کئی روحانی اور جسمانی خلافتیں ہوئی ہیں اگر روحانی نہ رہی تو جسمانی ہوگئی۔اور جسمانی نہ رہی تو روحانی رہی ہے۔پس جو کئی اس ہدایت کی پیروی کرے گا اس کو کوئی فکر نہیں اور جو لوگ انکار کریں گے وہ آگ میں ڈالے جائیں گے۔رسول کریم ہے آدم تھے ان کا مقابلہ کیا گیا اور بعض صحابہ سے غلطیاں ہوئیں لیکن پھر انہوں نے غلطیوں کی اصلاح کرلی۔غلط کہتے ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ ماموروں اور ان کے خلیفوں کا انکار کر کے بھی ہم سیکھ سکتے ہیں۔ہر ایک ہم میں سے آدم ہے جن نہیں۔خدا نے سب پر آدم کا لفظ بولا ہے اور ہر ایک سے اس کا الگ الگ معاملہ ہے۔ایک باپ کا بیٹا خلیفہ ہوتا پھر بڑی قوم کا سردار خلیفہ ہوتا ہے۔پھر غیر مامور خلیفے اور پھر انبیاء کے خلیفے ہوتے ہیں ان کے الگ رہتے ہوتے ہیں۔اپنے اندر تبدیلی پیدا کرو۔مبارک ہے وہ انسان جو اپنی غلطیاں اپنے اوپر لگائے نہ کہ خدا پر۔خدا سے اپنا تعلق مضبوط کرو اور ملائکہ کی طرح فرمانبرداری اختیا کرو۔( خطبات محمود جلد ۴ ص ۷۹) سید نا حضرت خلیفتہ اسیح الرابع نے منصب خلافت پر فائز ہونے کے بعد اپنے پہلے خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۱ جون ۱۹۸۲ء میں فرمایا:۔